چراغ جو جلتا رہا
گاؤں کے آخری کچے گھر میں
ایک چھوٹا سا چراغ جلتا تھا۔
وہ گھر نہ نقشے میں نمایاں تھا، نہ لوگوں کی باتوں میں۔
اس گھر میں بوڑھی ماں اور اُس کا بیٹا حامد رہتے تھے۔
حامد دن بھر کھیتوں میں مزدوری کرتا، اور شام کو چراغ کے پاس بیٹھ جاتا۔
وہ چراغ اُس کے والد کی نشانی تھا۔
والد کہا کرتے تھے:
“جب سب کچھ بجھ جائے،
تب بھی ایک روشنی
دل کے لیے کافی ہوتی ہے۔”
ایک سال بارش نہ ہوئی۔
کھیت سوکھ گئے۔ کام ختم ہو گیا۔
لوگ شہر جانے لگے۔
ماں نے کہا: “بیٹا، یہاں اب کچھ نہیں۔”
حامد نے چراغ دیکھا۔
وہ اب بھی جل رہا تھا۔
اُس نے کہا: “اماں، جب تک یہ جلتا ہے، ہم رک سکتے ہیں۔”
راتیں لمبی ہو گئیں۔
چراغ کی لو
کمزور ہونے لگی۔
ایک رات تیز ہوا چلی۔
چراغ لڑکھڑایا۔
ماں گھبرا گئی۔ “بجھ جائے گا!”
حامد نے ہاتھوں سے ہوا روک لی۔
اُس کی ہتھیلیاں جلنے لگیں،
مگر اُس نے ہاتھ نہیں ہٹائے۔
صبح چراغ جل رہا تھا۔
اُسی دن گاؤں میں خبر پھیلی کہ نہر دوبارہ کھلنے والی ہے۔
لوگ لوٹنے لگے۔
کچھ ہی مہینوں میں
کھیت پھر ہرے ہو گئے۔
چراغ اب بھی جلتا تھا،
مگر اب
روشنی باہر تک جاتی تھی۔
ماں نے مسکرا کر کہا:
“یہ چراغ نہیں،
تمہارا حوصلہ تھا۔”
حامد نے آہستہ سے جواب دیا:
“اماں، حوصلہ تب رہتا ہے
جب کوئی مان لے
کہ اندھیرا آخری نہیں۔”
کچھ چراغ
تیل سے نہیں،
یقین سے جلتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- امید کمزور ہو سکتی ہے، مگر ختم نہیں ہوتی
- صبر وہ روشنی ہے جو مشکل میں راستہ دکھاتی ہے
- ہر اندھیرا مستقل نہیں ہوتا
- اگر ایک دل بھی جلتا رہے، تو صبح آ سکتی ہے
تو دیکھیں—
کہیں کوئی چھوٹا سا چراغ
ابھی جل تو رہا ہے۔
— اختتام —