وہ دروازہ جو بند نہیں تھا
گلی کے آخری سرے پر ایک پرانا مکان تھا۔
لوگ کہتے تھے وہاں کچھ نہیں رکھا۔
حمزہ بھی یہی مانتا رہا۔
اُس کی زندگی ناکام کوششوں سے بھری تھی۔ نوکریاں چھوٹتی رہیں، اعتماد کم ہوتا گیا۔
ہر بار اُس نے یہی کہا: “میرے لیے سب دروازے بند ہیں۔”
ایک شام بارش کے بعد اُس گلی سے گزرتے ہوئے اُس کی نظر اُس مکان پر پڑی۔
دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا۔
حمزہ رُک گیا۔
دل نے کہا: “مت جاؤ۔”
مگر قدم آگے بڑھ گئے۔
اندر کوئی شور نہیں تھا۔ صرف خاموشی۔
کمرے خالی تھے، مگر سانس لینے کی جگہ تھی۔
ایک کھڑکی سے روشنی آ رہی تھی۔
حمزہ نے پہلی بار کسی جگہ خود کو اجنبی نہیں پایا۔
وہ وہیں بیٹھ گیا۔
اُسے احساس ہوا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے دروازے کھلنے کا انتظار کرتا رہا، اپنا دروازہ کبھی پہچانا ہی نہیں۔
اگلے دن اُس نے فیصلہ کیا۔
نوکری نہیں بدلی، شہر نہیں چھوڑا۔
بس اپنی سوچ کا دروازہ پورا کھول دیا۔
وقت کے ساتھ زندگی بدلی۔
مکان اب بھی وہیں تھا، دروازہ اب بھی کھلا۔
حمزہ کبھی کبھی وہاں جاتا، خاموشی میں اپنی ہمت کو یاد کرنے۔
کیونکہ ہر بند راستے کے بیچ ایک دروازہ کھلا ہوتا ہے— بس نظر کی بات ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر ناکامی راستے بند نہیں کرتی
- ہم اکثر خود کو قید کر لیتے ہیں
- فیصلہ دروازہ کھولتا ہے، قسمت نہیں
- ہمت باہر نہیں، اندر ہوتی ہے
کہ سب کچھ بند ہو چکا ہے،
تو ذرا غور سے دیکھیں—
شاید ایک دروازہ
ابھی آپ کا انتظار کر رہا ہو۔
— اختتام —