وہ آواز جو لوٹ آئی
اس کمرے میں
کبھی قہقہے گونجتے تھے۔
اب
خاموشی اتنی گہری تھی
کہ سانس کی آواز بھی
اجنبی لگتی تھی۔
مریم نے بولنا چھوڑ دیا تھا۔
ڈاکٹر کہتے تھے
یہ بیماری نہیں،
یہ تھکن ہے—
دل کی۔
ایک حادثے کے بعد
اُس کی آواز
جیسے کہیں کھو گئی تھی۔
لوگ آتے،
حوصلہ دیتے،
اور چلے جاتے۔
مریم
سر ہلا دیتی۔
الفاظ
اُس تک پہنچتے تھے،
مگر واپس نہیں آتے تھے۔
ایک دن
اُس نے الماری کھولی۔
اندر
ایک پرانا ٹیپ ریکارڈر رکھا تھا۔
اُس نے پلے دبایا۔
آواز ابھری—
ہنستی ہوئی،
زندہ،
اپنی۔
مریم کے ہاتھ کانپ گئے۔
یہ اُس کی اپنی آواز تھی،
جو وہ برسوں پہلے
کسی کہانی میں ریکارڈ کر رہی تھی۔
اُس نے آنکھیں بند کر لیں۔
آواز کہہ رہی تھی:
“اگر تم یہ سن رہی ہو،
تو یاد رکھنا—
تم خاموش نہیں ہو،
بس رُکی ہوئی ہو۔”
مریم رو پڑی۔
یہ آنسو
کمزوری کے نہیں تھے،
واپسی کے تھے۔
اُس نے آہستہ سے کہا:
“میں یہاں ہوں۔”
آواز کمزور تھی،
مگر موجود تھی۔
اگلے دن
مریم نے دوبارہ کوشش کی۔
الفاظ ٹوٹے ہوئے تھے،
مگر سچے۔
وقت کے ساتھ
آواز مضبوط ہونے لگی۔
کمرہ
پھر سے زندہ ہونے لگا۔
قہقہے نہیں،
مگر باتیں واپس آ گئیں۔
مریم نے سیکھ لیا تھا—
خاموشی
ہمیشہ انجام نہیں ہوتی،
کبھی کبھی
واپسی کا راستہ ہوتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموشی کمزوری نہیں، ایک مرحلہ ہو سکتی ہے
- انسان کی اصل آواز اُس کی شناخت ہوتی ہے
- یادیں ہمیں خود تک واپس لا سکتی ہیں
- شفا کا آغاز ایک سچے لفظ سے ہوتا ہے
کوئی آواز خاموش ہو گئی ہے،
تو گھبرائیں نہیں—
وہ کہیں گئی نہیں،
بس آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
— اختتام —