← تمام اردو کہانیاں

ریت پر لکھا نام

A quiet seashore at sunset with footprints on sand, soft waves, calm and reflective mood

ساحل خاموش تھا۔
صرف لہروں کی ہلکی آواز
ریت کو چھوتی
اور پیچھے ہٹ جاتی تھی۔

حماد ننگے پاؤں
ریت پر چل رہا تھا۔

ہر قدم کے ساتھ
نقش بنتے
اور مٹتے جا رہے تھے۔

یہی منظر
اُسے اپنی زندگی جیسا لگتا تھا۔

وہ بہت کچھ بننا چاہتا تھا،
مگر ہر بار
کچھ نہ کچھ
اسے پیچھے کھینچ لیتا۔

آج وہ یہاں
کسی کو ڈھونڈنے نہیں آیا تھا،
بلکہ
خود سے ملنے آیا تھا۔

اُس نے جھک کر
ریت پر ایک نام لکھا۔

اپنا نام۔

لہریں آئیں،
حروف دھندلے ہو گئے۔

حماد مسکرایا۔

اُسے یاد آیا
کہ وہ ہمیشہ
دوسروں کے لیے جیتا رہا، دوسروں کی امیدوں پر
اپنا نام لکھتا رہا۔

ریت پر نہیں،
پتھر پر۔

اور جب پتھر ٹوٹے،
تو وہ بھی ٹوٹ گیا۔

وہ بیٹھ گیا۔
ہوا میں نمکین خوشبو تھی۔

ایک بوڑھا ماہی گیر
پاس سے گزرا۔

حماد نے پوچھا:
“یہ سب مٹ کیوں جاتا ہے؟”

بوڑھے نے جواب دیا:
“جو مٹ جائے
وہ بوجھ نہیں بنتا۔
اصل چیز
دل میں رہتی ہے۔”

حماد نے دوبارہ
ریت پر نام لکھا۔

اس بار
ہلکے ہاتھ سے۔

لہریں آئیں،
نام مٹ گیا۔

مگر حماد کے دل میں
کچھ واضح ہو گیا۔

زندگی
نقش چھوڑنے کا مقابلہ نہیں،
سانس لینے کا نام ہے۔

وہ اُٹھا،
پیچھے مڑا،
ریت پر قدموں کے نشان تھے۔

آگے دیکھا،
راستہ خالی تھا۔

اور اُسے پہلی بار
یہ خالی پن
ڈرانے والا نہیں لگا۔

کیونکہ جو انسان
ریت پر چلنا سیکھ لے،
وہ مٹنے سے نہیں ڈرتا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ بھی
اپنی زندگی میں
کچھ مٹ جانے سے ڈر رہے ہیں،
تو یاد رکھیں—
ریت پر لکھا نام
بھاری نہیں ہوتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →