درخت کے نیچے وعدہ
پارک کے وسط میں
ایک بڑا سا برگد کا درخت تھا۔
علی اور فاطمہ
ہر ہفتے وہاں آتے،
اور دو گھنٹے بیٹھ کر باتیں کرتے۔
شروع میں
وہ بچپن کی باتیں تھیں،
پھر نوجوانی کے خواب۔
ایک دن
علی نے کہا:
“ہم وعدہ کرتے ہیں
کہ زندگی ہمیں الگ نہ کرے،
ہم ہر سال یہی درخت دیکھیں گے۔”
فاطمہ نے مسکرا کر ہاں کہا۔
سال گزرتے گئے،
سکول، کالج، اور نوکریاں۔
ایک سال
فاطمہ شہر بدل گئی،
اور وعدہ یاد رکھنے کی جگہ
مصروفیات نے لے لی۔
علی وہاں آیا،
درخت کے نیچے،
خاموش بیٹھا،
اور ہوا میں فاطمہ کی یاد محسوس کی۔
اگلے سال
فاطمہ واپس آئی۔
درخت کے نیچے
دونوں نے دوبارہ بیٹھا،
خاموشی میں،
صرف یادیں اور ہنسی۔
وعدہ پورا ہوا نہ ہوا،
مگر محبت
اب بھی درخت کی چھاؤں میں زندہ تھی۔
علی نے کہا:
“شاید وعدے الفاظ سے نہیں،
لمحوں سے پورے ہوتے ہیں۔”
فاطمہ نے سر ہلا دیا،
اور ہوا میں ہاتھ ہلایا،
جیسے برسوں کا فاصلہ
صرف چند لمحوں کا ہو گیا۔
درخت اب بھی وہاں تھا،
اور ہر سال
نئے پتے،
نئی روشنی،
پرانی یادیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وعدے ہمیشہ لفظوں میں نہیں، اعمال اور یادوں میں بھی ہوتے ہیں
- وقت اور فاصلہ رشتوں کو کمزور نہیں کر سکتے، بس نئے رنگ دے دیتے ہیں
- زندگی کی خوبصورتی لمحوں میں چھپی ہوتی ہے، بڑی باتوں میں نہیں
- محبت اور دوستی کی طاقت خاموش یادوں میں بھی موجود رہتی ہے
تو وہ شاید کسی درخت کی چھاؤں میں
اب بھی زندہ ہے۔
— اختتام —