چابی جو مل گئی
حسن کے کمرے میں
ایک دروازہ تھا
جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔
وہ دروازہ
کسی اور کمرے کا نہیں،
اُس کی اپنی سوچ کا تھا۔
حسن بچپن سے
لوگوں کی باتیں سن کر
فیصلے کرتا آیا تھا۔
“یہ ممکن نہیں۔”
“یہ تم سے نہیں ہوگا۔”
ہر جملہ
ایک تالہ بن جاتا۔
وقت کے ساتھ
تالے بڑھتے گئے۔
ایک دن
امی نے پرانی الماری صاف کرتے ہوئے
ایک چھوٹی سی چابی
حسن کو دی۔
“یہ تمہارے ابا کی ہے،
سنبھال کر رکھنا،
کبھی کام آ جائے گی۔”
حسن نے چابی
جیب میں ڈال لی۔
دن گزرے۔
وہی الجھنیں،
وہی ڈر۔
ایک رات
حسن اپنے کمرے میں بیٹھا
خود سے لڑ رہا تھا۔
اُس کی انگلیاں
لا شعوری طور پر
جیب میں گئیں۔
چابی ہاتھ میں آ گئی۔
وہ ہنسا۔
پھر اُس کی نظر
بند دروازے پر پڑی۔
وہ اُٹھا،
چابی تالے میں ڈالی۔
تالا کلک کی آواز کے ساتھ کھل گیا۔
دروازے کے پیچھے
کوئی خزانہ نہیں تھا،
کوئی معجزہ نہیں۔
صرف ایک خالی کمرہ
اور ایک کھڑکی۔
مگر حسن کے لیے
وہ خالی پن
آزادی تھا۔
اُس نے کھڑکی کھولی۔
ہوا اندر آئی۔
اُس نے سمجھ لیا
کہ چابی
کبھی باہر نہیں تھی،
وہ ہمیشہ
اُس کی ہمت میں تھی۔
اُس رات
حسن سویا
بغیر کسی تالے کے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اکثر رکاوٹیں ہماری اپنی سوچ بناتی ہے
- فیصلے کی ہمت ہی اصل چابی ہوتی ہے
- آزادی ہمیشہ باہر نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے
- خالی کمرہ بھی نئی شروعات بن سکتا ہے
کسی بند دروازے کے سامنے کھڑے ہیں،
تو جیب ٹٹولیے—
شاید چابی
پہلے سے موجود ہو۔
— اختتام —