وہ راستہ جو نقشے میں نہیں تھا
گاؤں کے کنارے
ایک کچا راستہ تھا۔
نہ اُس پر کوئی بورڈ تھا،
نہ کسی نقشے میں اُس کا ذکر۔
لوگ کہتے تھے:
“وہ کہیں نہیں جاتا۔”
احمد نے یہ بات
ہمیشہ سنی تھی۔
اُس کی زندگی بھی
کچھ ایسی ہی تھی—
ڈگری تھی،
نوکری تھی،
مگر سمت نہیں تھی۔
ہر روز
ایک ہی سڑک،
ایک ہی دفتر،
اور ایک ہی تھکن۔
ایک صبح
وہ بغیر بتائے
گاؤں سے باہر نکل آیا۔
قدم خود بخود
اُس کچے راستے کی طرف بڑھ گئے۔
دل میں ڈر تھا،
مگر رکنے کی وجہ نہیں تھی۔
راستہ خاموش تھا۔
صرف پرندوں کی آواز
اور پاؤں کے نیچے مٹی کی سرسراہٹ۔
کچھ دور جا کر
راستہ تنگ ہو گیا۔
احمد رُک گیا۔
اُس نے پیچھے دیکھا—
واپس جانا آسان تھا۔
آگے دیکھا—
کچھ بھی واضح نہیں تھا۔
وہ مسکرایا۔
زندگی بھی تو
ایسی ہی تھی۔
وہ چل پڑا۔
راستے میں
ایک چھوٹا سا چشمہ ملا۔
پانی ٹھنڈا تھا۔
احمد نے ہاتھ دھوئے،
چہرہ تر کیا۔
اُسے لگا
جیسے برسوں بعد
خود کو صاف کر رہا ہو۔
آگے ایک ٹیلہ آیا۔
اوپر پہنچا
تو سامنے
پورا علاقہ پھیلا ہوا تھا۔
گاؤں،
کھیت،
اور دور تک
آسمان۔
احمد کی آنکھیں بھر آئیں۔
اُسے پہلی بار
یہ احساس ہوا
کہ اُس نے زندگی
ہمیشہ نیچے سے دیکھی تھی۔
وہ دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔
شام ڈھلنے لگی
تو وہ واپس مڑا۔
راستہ وہی تھا،
مگر احمد وہ نہیں رہا تھا۔
گاؤں واپس آ کر
لوگوں نے پوچھا:
“کہاں گئے تھے؟”
احمد نے جواب دیا:
“راستے پر۔”
لوگ ہنس دیے۔
احمد بھی مسکرایا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا
کہ کچھ راستے
منزل نہیں دیتے،
مگر حوصلہ دے دیتے ہیں۔
اور بعض اوقات
یہی کافی ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر درست راستہ نقشے میں درج نہیں ہوتا
- سمت کا احساس باہر نہیں، اندر سے آتا ہے
- زندگی میں کبھی کبھی بے مقصد چلنا بھی ضروری ہوتا ہے
- اصل سفر وہ ہے جو ہمیں خود پر یقین دینا سکھائے
کہ آپ غلط جگہ کھڑے ہیں،
تو شاید
آپ کو ایسے راستے پر چلنا ہے
جو کسی نقشے میں نہیں۔
— اختتام —