خاموش چراغ
گاؤں کے آخری کونے میں ایک مٹی کا چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں رحمت علی رہتا تھا۔ نہ کوئی بڑی زمین، نہ دولت، نہ شہر کی چمک دمک۔ بس ایک خاموش سی زندگی، جس میں دن محنت سے اور رات دعا سے گزرتی تھی۔
رحمت علی شام ہوتے ہی اپنے گھر کے باہر ایک چھوٹا سا چراغ جلا دیتا تھا۔ یہ چراغ پورے محلے کے لیے نشانی بن چکا تھا۔ مسافر اسی روشنی کو دیکھ کر راستہ پہچانتے، بچے اس کے قریب بیٹھ کر سبق دہراتے، اور بوڑھے اس کی مدھم روشنی میں اپنی یادیں سمیٹتے۔
کسی نے کبھی نہیں پوچھا کہ چراغ جلانے والا کون ہے۔ سب روشنی لیتے رہے، نام کسی کو یاد نہ رہا۔
رحمت علی دن بھر کھیتوں میں کام کرتا، شام کو بچوں کو پڑھاتا اور رات کو خاموشی سے اپنے رب سے باتیں کرتا۔ اس کے اپنے خواب بہت چھوٹے تھے: بس اتنا کہ اس کا چراغ بجھے نہیں۔
ایک سرد رات آندھی آئی۔ تیز ہوا نے پورے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ مگر رحمت علی کا چراغ اب بھی جل رہا تھا۔ اس نے اپنی شال چراغ کے گرد لپیٹ دی، خود سردی سہتا رہا، مگر روشنی کو بجھنے نہ دیا۔
اگلی صبح گاؤں والوں نے دیکھا کہ رحمت علی بے ہوش پڑا ہے، اور چراغ اب بھی جل رہا ہے۔
اس دن گاؤں کو احساس ہوا کہ روشنی خود بخود نہیں جلتی، کوئی نہ کوئی خاموشی سے خود کو جلاتا ہے۔
رحمت علی بچ گیا، مگر اس کے بعد چراغ صرف ایک مٹی کا دیا نہیں رہا، وہ قربانی کی علامت بن گیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل عظمت شور میں نہیں، خاموش خدمت میں ہوتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے لیے جلتے ہیں، وہ اکثر نظر نہیں آتے، مگر دنیا انہی کے دم سے روشن رہتی ہے۔
— اختتام —