← تمام اردو کہانیاں

ادھورا خط

Old handwritten letter on a wooden table near a window with soft sunlight

عارف کو پرانی چیزیں سنبھال کر رکھنے کی عادت تھی۔ اس کے کمرے کے ایک کونے میں لکڑی کا بکسہ رکھا تھا، جس میں ماضی کے کئی لمحے قید تھے۔ ایک دن وہ بکسہ صاف کر رہا تھا کہ ایک پیلا پڑا ہوا لفافہ اس کے ہاتھ لگا۔

لفافے پر نام درج نہیں تھا، صرف تاریخ لکھی تھی — دس سال پرانی۔

عارف نے خط کھولا۔ تحریر اس کی اپنی تھی۔

"اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو، تو شاید میں ہمت کر چکا ہوں۔ میں وہ باتیں کہہ رہا ہوں جو سامنے کبھی نہ کہہ سکا…"

عارف رک گیا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ خط اس لڑکی کے لیے تھا جسے وہ کبھی اپنا نہ بنا سکا۔ وقت، حالات اور خاموشی سب درمیان آ گئے تھے۔

خط میں اس نے اپنے خوف لکھے تھے، اپنی کمزوریاں، اور وہ محبت جو الفاظ کی قید میں رہ گئی۔ مگر خط ادھورا تھا۔ آخری صفحے پر سیاہی پھیل گئی تھی، جیسے لکھتے لکھتے ہاتھ کانپ گیا ہو۔

عارف کو یاد آیا کہ اسی دن اس نے فیصلہ کیا تھا کہ خط نہیں بھیجے گا۔ اسے لگا تھا کہ خاموشی شاید زیادہ محفوظ ہے۔

مگر آج، دس سال بعد، وہ خاموشی بہت بھاری لگ رہی تھی۔

اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ خزاں کے پتے گر رہے تھے۔ وقت بھی انہی پتوں کی طرح گرتا رہا تھا۔

عارف نے خط دوبارہ تہہ کیا، مگر اس بار بکسے میں نہیں رکھا۔ اس نے قلم اٹھایا اور ایک نیا خط لکھنا شروع کیا — اس بار کسی کے لیے نہیں، اپنے لیے۔

"کچھ ادھورے لفظ ہمیں عمر بھر مکمل ہونے نہیں دیتے۔"


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کہے نہ گئے احساسات وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بلکہ بوجھ بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات اظہار نہ کرنا، سب سے بڑی کمی بن جاتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →