← تمام اردو کہانیاں

خاموش صحن کی آخری دستک

old abandoned house courtyard at sunset with soft light and shadows

شہر کے ہنگاموں سے دور، ایک پرانا سا مکان تھا جس کا صحن وقت کی دھول میں گم ہو چکا تھا۔ اسی صحن میں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، ماں کی آواز آتی تھی اور شام کو چراغ جلتے تھے۔ اب وہاں صرف خاموشی رہتی تھی۔

حارث اسی مکان کا اکلوتا وارث تھا۔ برسوں بعد وہ اس گھر لوٹا تھا، مگر اس کی واپسی خوشی کی نہیں، مجبوری کی تھی۔ شہر میں اس کا سب کچھ تھا: بڑا عہدہ، گاڑی، اپارٹمنٹ، مگر دل کے کسی کونے میں ایک انجانا سا خلا ہمیشہ موجود رہا۔

دروازہ کھولتے ہی صحن میں پڑی سوکھی پتیاں ہوا کے ساتھ سرسراہیں، جیسے کسی نے آہستہ سے اس کا نام پکارا ہو۔ حارث رک گیا۔ اسے یاد آیا، یہی وہ جگہ تھی جہاں اس کے والد شام کو اخبار پڑھا کرتے تھے، اور وہ خود ان کے پاس بیٹھ کر ضد کیا کرتا تھا۔

والد کی وفات کے بعد حارث نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسے لگتا تھا کہ کامیابی ہی سب کچھ ہے۔ ماں کے خط آتے رہے، مگر وہ مصروف رہا۔ پھر ایک دن خط آنا بند ہو گئے۔

وہ آہستہ آہستہ صحن میں آگے بڑھا۔ ایک کونے میں وہی پرانی چارپائی پڑی تھی۔ اچانک اسے یاد آیا، ماں اکثر یہی بیٹھ کر اس کے لیے دعا کیا کرتی تھی۔ حارث کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ حارث چونک گیا۔ دروازہ کھولا تو سامنے محلے کی ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی۔
"بیٹا، تم حارث ہو نا؟ تمہاری ماں آخری دنوں میں یہی کہتی تھی کہ میرا بیٹا آئے گا۔"

یہ سن کر حارث کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ صحن میں واپس آ کر بیٹھ گیا۔ آج اسے سمجھ آیا کہ اس نے کامیابی تو حاصل کی، مگر رشتوں کی قیمت پر۔

شام ڈھل رہی تھی۔ صحن میں اندھیرا پھیلنے لگا، مگر حارث کے دل میں ایک چراغ جل چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس خاموش صحن کو دوبارہ آباد کرے گا، کم از کم اپنی یادوں اور احساسات سے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
زندگی کی اصل کامیابی صرف دولت یا مقام نہیں، بلکہ وہ رشتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وقت گزر جانے کے بعد احساسِ ندامت انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم مصروف زندگی میں بھی اپنے پیاروں کو وقت دیں، کیونکہ خالی صحن ہمیشہ ہمیں ہمارے فیصلوں کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →