چراغ جو وقت سے پہلے بجھ گیا
گاؤں کے آخری سرے پر مٹی کا ایک چھوٹا سا گھر تھا، جس کی دیواروں پر دراڑیں تھیں مگر اندر رہنے والوں کے دل مضبوط تھے۔ اسی گھر میں صغریٰ اپنے بیٹے امان کے ساتھ رہتی تھی۔ گھر میں واحد روشنی ایک چھوٹا سا چراغ تھا جو ہر رات جلایا جاتا۔
امان پڑھنے کا شوقین تھا۔ وہ چراغ کی مدھم روشنی میں اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا اور خواب دیکھتا کہ ایک دن وہ بڑا آدمی بنے گا۔ صغریٰ اسے دیکھتی تو مسکرا دیتی، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے فکر کی ایک لمبی لکیر چھپی ہوتی۔
صغریٰ دن بھر لوگوں کے گھروں میں کام کرتی، برتن دھوتی، کپڑے دھوتی، اور شام کو تھکی ہاری واپس آتی۔ وہ اپنی ساری کمائی امان کی تعلیم پر لگا دیتی، خود کے لیے کچھ نہ بچاتی۔
ایک رات چراغ میں تیل کم پڑ گیا۔ صغریٰ نے اپنا دوپٹہ اتار کر تیل خریدنے کا فیصلہ کیا، تاکہ امان کی پڑھائی نہ رکے۔ اس رات چراغ پہلے سے زیادہ روشن جل رہا تھا، جیسے ماں کی قربانی کو سلام پیش کر رہا ہو۔
کچھ دن بعد صغریٰ شدید بیمار پڑ گئی۔ اس کے چہرے کی رونق ماند پڑ چکی تھی، مگر وہ اب بھی امان سے یہی کہتی، "بیٹا، پڑھتے رہنا… چراغ کو بجھنے نہ دینا۔"
ایک خاموش صبح، چراغ تو جل رہا تھا، مگر صغریٰ کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔
سالوں بعد، شہر کے ایک بڑے ہال میں امان کا نام پکارا گیا۔ وہ ایک کامیاب افسر بن چکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں صرف ایک تصویر—مدھم روشنی میں جلتا ہوا وہ چراغ۔
اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے گاؤں میں ایک اسکول بنوایا، اور اس کے دروازے پر لکھوایا:
"یہ چراغ ایک ماں کی قربانی سے جلتا ہے۔"
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ
ماں کی قربانی اکثر خاموش ہوتی ہے، مگر اس کی روشنی نسلوں تک پھیلتی ہے۔
کچھ چراغ وقت سے پہلے بجھ جاتے ہیں، مگر ان کی روشنی دوسروں کی زندگیوں کو روشن کر دیتی ہے۔
— اختتام —