درخت جس نے سایہ مانگا
گاؤں کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد کا درخت تھا۔ اس کی شاخیں کبھی اتنی گھنی تھیں کہ سورج کی روشنی زمین تک مشکل سے پہنچتی تھی۔ مسافر اس کے سائے میں بیٹھ کر سکھ کا سانس لیتے تھے، بچے اس کے گرد کھیلتے تھے۔
وقت گزرا۔ گاؤں پھیلنے لگا۔ لوگوں نے درخت کی شاخیں کاٹ کر اپنے گھروں کی چھتیں بنائیں، اس کی لکڑی سے باڑیں بنیں، اور کسی نے بھی یہ نہ سوچا کہ درخت کا بھی کوئی وجود ہے۔
درخت خاموش رہا۔ اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا، کیونکہ وہ دینا جانتا تھا۔
ایک سال بارش نہ ہوئی۔ دھوپ نے زمین کو جلا دیا۔ لوگ اپنے گھروں میں بند ہو گئے، مگر وہی برگد تپتی دھوپ میں کھڑا رہا۔ اس کی پتیوں کی تعداد کم ہو چکی تھی، مگر اس کی جڑیں اب بھی زمین سے جڑی تھیں۔
ایک دن ایک بوڑھا مسافر آیا۔ اس نے درخت کے پاس بیٹھ کر کہا،
"اے درخت، سب نے تجھ سے سایہ لیا، آج تو کیوں سوکھ رہا ہے؟"
درخت نے پہلی بار دل کی بات کہی،
"میں نے سایہ دیا، لکڑی دی، ٹھنڈک دی… مگر کسی نے مجھے جینے کا موقع نہ دیا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے تھا، بس تھوڑا سا خیال۔"
بوڑھا خاموش ہو گیا۔
کچھ دن بعد ایک تیز آندھی آئی۔ گاؤں کے کئی کمزور درخت گر گئے، مگر وہی برگد کھڑا رہا۔ لوگوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے جسے سب سے زیادہ استعمال کیا، اسی کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا۔
انہوں نے درخت کے اردگرد باڑ بنا دی، پانی دینے لگے، اور شاخیں کاٹنا چھوڑ دیں۔ وقت کے ساتھ برگد پھر ہرا ہونے لگا۔
درخت نے پھر کبھی کچھ نہیں کہا، مگر اس کا سایہ اب پہلے سے ٹھنڈا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
جو ہمیں سب سے زیادہ دیتا ہے، ہم اکثر اسی کی قدر نہیں کرتے۔
خواہ وہ فطرت ہو یا انسان، اگر مسلسل صرف لیا جائے اور بدلے میں خیال نہ رکھا جائے، تو ایک دن نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔
— اختتام —