وہ خط جو کبھی بھیجا نہ گیا
نعمان شہر کے ایک مصروف دفتر میں کام کرتا تھا۔ اس کی زندگی فائلوں، میٹنگز اور ڈیڈ لائنز کے درمیان قید ہو چکی تھی۔ اس کے پاس سب کچھ تھا، سوائے سکون کے۔ رات کو جب وہ اپنے فلیٹ میں اکیلا بیٹھتا تو خاموشی اسے کاٹنے لگتی۔
ایک رات اس نے الماری صاف کرتے ہوئے ایک پرانا لفافہ دیکھا۔ لفافہ پیلا پڑ چکا تھا، مگر اس پر لکھا نام اب بھی واضح تھا:
"ابو جان"
نعمان کا دل زور سے دھڑکا۔ یہ وہ خط تھا جو اس نے پانچ سال پہلے لکھا تھا، مگر کبھی پوسٹ نہ کر سکا۔
اسے سب یاد آ گیا۔
ابو ایک سادہ انسان تھے۔ وہ نعمان کو ہمیشہ سمجھاتے،
"بیٹا، کامیابی کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی ضروری ہے۔"
مگر نعمان کو یہ نصیحتیں پرانی لگتی تھیں۔ ایک دن باپ بیٹے میں تلخ بحث ہو گئی۔ نعمان غصے میں گھر چھوڑ کر شہر آ گیا۔ جاتے وقت اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
چند دن بعد اس نے یہ خط لکھا تھا۔ خط میں اس نے مانا تھا کہ وہ غلط تھا، مگر اس کی انا نے اسے خط بھیجنے سے روک لیا۔ وہ سوچتا رہا، "بعد میں بھیج دوں گا۔"
بعد میں… کبھی نہیں آیا۔
دو مہینے بعد فون آیا تھا:
"ابو نہیں رہے۔"
نعمان آج تک خود کو معاف نہیں کر پایا تھا۔
وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔
"ابو جان،
مجھے نہیں معلوم میں یہ خط بھیج پاؤں گا یا نہیں، مگر میں یہ مانتا ہوں کہ میں نے آپ کو سمجھنے میں جلدی کی۔ آپ ٹھیک کہتے تھے۔ اگر وقت پیچھے لوٹ سکتا، تو میں آپ کے قدموں میں بیٹھ کر صرف سننا چاہتا…"
نعمان کی آنکھوں سے آنسو خط پر گرنے لگے۔
اگلے دن وہ گاؤں گیا۔ وہی پرانا گھر، وہی صحن۔ ابو کی کرسی اب بھی کونے میں رکھی تھی۔ نعمان نے کرسی پر ہاتھ رکھا، جیسے باپ کے کندھے کو چھو رہا ہو۔
اس دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی میں باتوں کو جمع نہیں کرے گا۔ وہ دل میں بوجھ نہیں رکھے گا۔
چند مہینوں بعد اس نے ایک فلاحی ادارہ بنایا، جہاں باپ بیٹوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے نشستیں رکھی جاتیں۔ اس ادارے کا نام اس نے رکھا:
"کہہ دو، دیر نہ کرو"
نعمان جانتا تھا، وہ خط کبھی نہیں پہنچا، مگر اس کی کہانی شاید کسی اور کو وقت پر بولنے کا حوصلہ دے دے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
الفاظ اگر دل میں قید رہ جائیں تو پچھتاوا بن جاتے ہیں، اور اگر وقت پر کہہ دیے جائیں تو شفا بن جاتے ہیں۔
ہم اکثر یہ سوچ کر رکے رہتے ہیں کہ "کل کہہ دیں گے"، مگر زندگی ہمیشہ کل کا موقع نہیں دیتی۔
معافی، محبت اور سچائی—یہ سب فوری عمل مانگتے ہیں، تاخیر نہیں۔
— اختتام —