← تمام اردو کہانیاں

وقت کے آئینے میں کھڑا آدمی

middle aged man standing alone near window looking at city lights at night

فراز کو ہمیشہ یہ یقین رہا کہ دنیا اس کی وجہ سے غلط چل رہی ہے۔
دفتر میں باس نااہل تھا، کولیگ سست تھے، گھر میں بیوی سمجھ نہیں رکھتی تھی، اور بچے نافرمان تھے۔ فراز ہر روز شکایتوں کے ساتھ جاگتا اور انہی شکایتوں کے ساتھ سوتا۔

وہ ایک اچھے عہدے پر فائز تھا، مگر اس کے چہرے پر مستقل سختی رہتی۔ لوگ اس سے بات کرتے ہوئے محتاط رہتے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ اس کے رعب کی وجہ سے ہے، مگر حقیقت کچھ اور تھی۔

ایک رات دیر سے گھر لوٹتے ہوئے لفٹ خراب ہو گئی۔ اسے مجبوراً سیڑھیوں سے جانا پڑا۔ تیسری منزل پر پہنچ کر وہ رک گیا۔ سانس پھول گئی تھی۔ پسینہ ماتھے پر تھا۔

اسی منزل پر ایک پرانا سا فلیٹ تھا، جس کے دروازے کے باہر ایک بوڑھا شخص کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی گہرائی تھی۔

بوڑھے نے مسکرا کر کہا،
"بیٹا، لگتا ہے زندگی نے تھکا دیا ہے۔"

فراز چونکا۔
"زندگی نہیں، لوگ تھکا دیتے ہیں۔"

بوڑھا ہنس دیا۔
"لوگ آئینہ ہوتے ہیں، بیٹا۔ اگر ہر چہرہ خراب لگے، تو شاید مسئلہ آئینے میں نہیں ہوتا۔"

یہ بات فراز کو ناگوار گزری۔ وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا۔

اگلے دن دفتر میں اس کی میٹنگ ناکام ہو گئی۔ باس نے تنقید کی، کولیگ خاموش رہے۔ فراز کو پہلی بار لگا کہ شاید وہ اکیلا کھڑا ہے۔

اسی رات وہ پھر سیڑھیوں سے آیا۔ بوڑھا پھر موجود تھا۔

"آج بھی دنیا غلط تھی؟"
بوڑھے نے نرمی سے پوچھا۔

فراز بیٹھ گیا۔ پہلی بار اس نے اپنی تھکن کو مانا۔
"میں نے سب کچھ کیا، پھر بھی سکون نہیں۔"

بوڑھے نے کہا،
"کیونکہ تم نے سب کو بدلنے کی کوشش کی، خود کو نہیں۔"

یہ جملہ فراز کے اندر کہیں ٹوٹ سا گیا۔

اگلے دن اس نے دفتر میں آواز نیچی رکھی۔ ایک کولیگ کی بات سنی۔ گھر آ کر بیوی سے بحث نہیں کی، بس خاموشی سے چائے پی۔

چند دنوں میں اس نے محسوس کیا کہ لوگ بدل نہیں رہے…
مگر رویّے نرم ہو رہے ہیں۔

کچھ ہفتوں بعد وہ تیسری منزل پر گیا، مگر کرسی خالی تھی۔ پڑوسی نے بتایا،
"وہ بابا تو یہاں مہمان تھے، اپنے بیٹے کے پاس۔ کل واپس چلے گئے۔"

فراز کافی دیر خالی کرسی کو دیکھتا رہا۔
اب وہ جانتا تھا کہ اصل تبدیلی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

اس رات اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔
پہلی بار دشمن نہیں، انسان نظر آیا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

دنیا ہمیں وہی دکھاتی ہے جو ہم خود ہوتے ہیں۔

جب ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں، تو ہم خود کو بدلنے کا موقع کھو دیتے ہیں۔
اصل طاقت دوسروں کو کنٹرول کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے رویّے کو سنوارنے میں ہے۔
ایک بدلا ہوا انسان، ایک بدلی ہوئی دنیا کی شروعات بن جاتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →