← تمام اردو کہانیاں

ادھورا پل

old wooden bridge over quiet river at dawn with soft fog

دریا کے ایک کنارے پر بستی تھی، اور دوسرے کنارے پر شہر۔ دونوں کے بیچ صرف ایک کچا سا راستہ تھا، جو برسات میں مکمل طور پر غائب ہو جاتا۔ اسی لیے برسوں پہلے ایک پل بنانے کا فیصلہ ہوا تھا۔

اس پل کا نگران یاسر تھا۔

یاسر ایک عام سا آدمی تھا، مگر دل میں غیرمعمولی خواب رکھتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی پہچان اس پل سے جڑی ہو، کہ لوگ کہیں:
"یہ وہ پل ہے جس نے ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔"

تعمیر شروع ہوئی۔ لکڑی کے تختے لگے، رسّے بندھے، ستون کھڑے ہوئے۔ یاسر دن رات وہیں رہتا۔ بارش ہو یا دھوپ، وہ پل کے ایک ایک تختے کو خود دیکھتا۔

مگر بستی کے لوگ بے صبرے تھے۔ "اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟" "یہ پل کبھی مکمل بھی ہوگا؟"

یہ باتیں یاسر کے دل میں تیر کی طرح لگتیں، مگر وہ خاموش رہتا۔

ایک دن زوردار طوفان آیا۔ دریا بپھر گیا۔ آدھا بنا ہوا پل رات کے اندھیرے میں بہہ گیا۔ صبح جب لوگ آئے تو صرف ٹوٹے ہوئے ستون باقی تھے۔

لوگوں نے کہا: "ہم نے پہلے ہی کہا تھا، یہ وقت ضائع ہو رہا ہے۔"

یاسر اس دن دیر تک دریا کنارے بیٹھا رہا۔ اس کے ہاتھ خالی تھے، آنکھیں بوجھل، اور دل ٹوٹا ہوا۔

کئی دن بعد وہ پھر آیا۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا: "اب کیوں آئے ہو؟"

یاسر نے آہستہ سے کہا: "پل ٹوٹ گیا ہے، مگر راستہ نہیں۔"

اس نے دوبارہ کام شروع کیا۔ اس بار آہستہ، مضبوط، صبر کے ساتھ۔ اس نے ستون گہرے گاڑے، لکڑی بہتر چنی، اور ہر قدم پر وقت لیا۔

مہینے گزر گئے۔ ایک صبح، پل مکمل تھا۔

لوگوں نے پہلا قدم رکھا۔ دریا نیچے بہہ رہا تھا، مگر پل ہل نہیں رہا تھا۔ بستی اور شہر پہلی بار واقعی جُڑ گئے تھے۔

یاسر نے پیچھے مڑ کر پل کو دیکھا۔ یہ اب بھی تھوڑا کچا تھا، مگر مضبوط تھا—بالکل اس کی طرح۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ناکامی راستے کا اختتام نہیں، بلکہ درست طریقہ سیکھنے کا موقع ہوتی ہے۔

جو کام جلدی میں ٹوٹ جائے، وہ مضبوط نہیں ہوتا۔
زندگی کے پل صبر، مستقل مزاجی اور ہمت سے بنتے ہیں۔
اگر نیت سچی ہو، تو ادھورا پل بھی ایک دن مکمل ہو جاتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →