← تمام اردو کہانیاں

ماں کی دعا

An elderly mother sitting by a window praying with raised hands at dawn, soft natural light, emotional and peaceful mood

صبح کا وقت تھا۔ فجر کی اذان ختم ہو چکی تھی اور محلے کی گلیوں میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں زینب بی بی جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔ ہاتھ اٹھے ہوئے تھے، آنکھیں نم، اور لب ہلکی ہلکی جنبش میں تھے۔

ان کا بیٹا عارف شہر میں رہتا تھا۔ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کی امید لے کر گیا تھا، مگر قسمت نے فوراً دروازہ نہیں کھولا۔ کبھی نوکری ملی، کبھی چھن گئی۔ کبھی امید جاگی، کبھی ٹوٹ گئی۔

زینب بی بی نے کبھی عارف کو مایوسی کے الفاظ نہیں کہے۔ جب وہ فون پر تھکا ہوا بولتا تو وہ بس اتنا کہتیں:
“بیٹا، فکر نہ کرو، اللہ بہتر کرے گا۔”

عارف نہیں جانتا تھا کہ ہر رات اس کی ماں اس کے نام کی دعا مانگتے مانگتے سو جاتی ہے۔ کبھی ہاتھوں میں درد ہوتا، کبھی آنکھوں میں نیند، مگر دعا نہیں رُکتی تھی۔

محلے کی عورتیں اکثر کہتیں،
“اب تو بیٹا بڑا ہو گیا ہے، تم کیوں اتنی فکر کرتی ہو؟”
زینب بی بی مسکرا کر جواب دیتیں،
“ماں کی فکر عمر نہیں دیکھتی۔”

ایک دن عارف شدید مایوسی میں گھر آیا۔ آنکھوں میں شکست تھی، آواز میں بوجھ۔ اس نے کہا، “امّی، مجھ سے کچھ نہیں ہو پا رہا۔”

زینب بی بی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ کوئی لمبا لیکچر نہیں دیا، کوئی نصیحت نہیں کی۔ بس اتنا کہا: “بیٹا، جب سب راستے بند لگیں، تو سمجھ لو دعا کا دروازہ کھلنے والا ہے۔”

چند ہفتوں بعد، اچانک ایک پرانی درخواست پر کال آئی۔ اچھی نوکری، بہتر تنخواہ، اور عزت۔ عارف کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے فوراً ماں کو فون کیا۔

دوسری طرف، زینب بی بی نے فون رکھا، سجدے میں گر گئیں۔ الفاظ نہیں تھے—صرف آنسو تھے۔ شکر کے آنسو۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

👉 ماں کی دعا نظر نہیں آتی، مگر اثر ضرور دکھاتی ہے۔
👉 خاموشی سے مانگی گئی دعا سب سے گہری ہوتی ہے۔
👉 جب انسان ہار ماننے لگے، وہاں دعا کام شروع کرتی ہے۔

زینب بی بی نے کچھ مانگا نہیں—
انہوں نے صرف بھروسا رکھا۔
اور بھروسا، جب دعا کے ساتھ ہو،
تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →