ٹوٹا ہوا قلم
سکول کی آخری بنچ پر بیٹھا حارث خاموشی سے اپنی کاپی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم درمیان سے ٹوٹ چکا تھا۔ سیاہی کبھی چلتی، کبھی رک جاتی۔ وہ بار بار قلم کو ہلاتا، جیسے اس سے ضد کر رہا ہو۔
حارث غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک معمولی مزدور تھے، اور ماں گھروں میں کام کرتی تھیں۔ نئی کاپیاں، نئے بیگ، نئے قلم—یہ سب چیزیں اس کے لیے خواب جیسی تھیں۔
اس دن کلاس میں ٹیسٹ تھا۔ استاد نے سوال لکھے اور سب بچے لکھنے لگے۔ حارث کا قلم بار بار رک جاتا۔ پاس بیٹھے بچے نے طنزیہ انداز میں کہا،
“قلم بدل لو، ایسے تو فیل ہو جاؤ گے۔”
حارث نے سر جھکا لیا۔ اس کے پاس بدلنے کو کچھ نہیں تھا۔
اس نے دل ہی دل میں کہا،
“یا اللہ، بس آج میرا ساتھ دے دینا۔”
وہ ٹوٹے ہوئے قلم سے آہستہ آہستہ لکھتا رہا۔ ہر لفظ کے ساتھ صبر جڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درد ہونے لگا، مگر اس نے قلم نہیں چھوڑا۔
نتائج آئے۔ استاد نے کلاس میں اعلان کیا:
“اس بار سب سے اچھا پرچہ حارث کا ہے۔”
پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔ استاد نے حارث کو بلایا اور کہا،
“بیٹا، تم نے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت قلم میں نہیں، نیت میں ہوتی ہے۔”
اس دن استاد نے حارث کو ایک نیا قلم تحفے میں دیا۔
حارث نے وہ قلم پکڑا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہ ٹوٹا ہوا قلم تھا—
جس نے اسے ہارنے نہیں دیا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
👉 وسائل کی کمی کامیابی کی رکاوٹ نہیں بنتی۔
👉 اصل فرق محنت اور حوصلے سے پڑتا ہے۔
👉 جو انسان مشکل میں بھی کوشش نہ چھوڑے، وہی آگے بڑھتا ہے۔
ٹوٹا ہوا قلم صرف ایک چیز نہیں تھا—
وہ حارث کے صبر، یقین اور جدوجہد کی علامت تھا۔
— اختتام —