واپس آنے والا خط
پرانی الماری کے نچلے خانے میں ایک زرد لفافہ رکھا تھا۔ اس پر مہر مدھم ہو چکی تھی اور پتہ تقریباً مٹ چکا تھا۔ سلمیٰ بیگم ہر چند ماہ بعد اسے نکال کر دیکھتیں، جیسے کسی پرانے زخم کو چھیڑ رہی ہوں۔
یہ خط انہوں نے اپنے بیٹے کامران کو لکھا تھا—اس دن، جب وہ ناراض ہو کر گھر چھوڑ گیا تھا۔
خط میں شکایت نہیں تھی، بس ماں کی بے ترتیب تحریر تھی:
“بیٹا، اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کر دینا۔ گھر اب بھی تمہارا ہے۔”
کامران شہر چلا گیا۔ سال گزر گئے۔ کوئی فون، کوئی پیغام نہیں آیا۔ محلے والے کہتے، “اب واپس نہیں آئے گا۔” مگر سلمیٰ بیگم ہر دن دروازہ دیکھتیں۔
ایک دن ڈاکیہ آیا۔ ہاتھ میں وہی لفافہ تھا— اس پر مہر لگی تھی:“پتہ نامکمل ہے، واپس بھیج دیا گیا”
سلمیٰ بیگم نے خط ہاتھ میں لیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ خط نہیں پہنچا تھا، مگر ماں کا دل اب بھی بھیجنے کے لیے تیار تھا۔
چند ہفتوں بعد، ایک شام دروازے پر دستک ہوئی۔ سامنے کامران کھڑا تھا۔ آنکھوں میں ندامت، ہاتھوں میں خاموشی۔
وہ بولا،
“امّی… وہ خط کبھی ملا نہیں، مگر میں نے اسے دل میں محسوس کیا۔”
سلمیٰ بیگم نے کچھ نہیں کہا۔ بس بیٹے کو گلے لگا لیا۔
خط واپس آ گیا تھا—
مگر رشتہ واپس آ چکا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
👉 سچے جذبے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے۔
👉 رشتے اگر دل سے جڑے ہوں، تو فاصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔
👉 معافی ہمیشہ واپسی کا راستہ کھول دیتی ہے۔
واپس آنے والا خط دراصل ایک پیغام تھا—
کہ محبت اگر خالص ہو،
تو دیر ضرور ہوتی ہے،
مگر انجام نہیں بدلتا۔
— اختتام —