وقت کی قسط
عابد کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وقت دیکھتا، دفتر پہنچنے کی جلدی، میٹنگز، فون کالز، اور پھر تھکن کے ساتھ گھر واپسی۔
اس کا ماننا تھا کہ
“بس آج محنت کر لوں، کل سب بہتر ہو جائے گا۔”
گھر میں ماں، بیوی اور ایک چھوٹی بیٹی تھی۔ ماں اکثر کہتیں،
“بیٹا، کچھ دیر ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔”
عابد مسکرا کر کہتا،
“امّی، وقت نہیں ملتا۔”
بیٹی روز اپنی کاپی لے کر آتی،
“ابو، یہ دیکھیں میں نے کیا بنایا ہے۔”
عابد سرسری نظر ڈال کر کہتا،
“شاباش، بعد میں دیکھوں گا۔”
بعد میں کبھی نہیں آتا۔
ایک دن دفتر سے فون آیا۔
عابد کی ماں ہسپتال میں داخل ہو چکی تھیں۔ عابد دوڑتا ہوا پہنچا۔ ماں بستر پر لیٹی تھیں، کمزور مگر مسکراتی ہوئی۔
انہوں نے دھیمی آواز میں کہا،
“بیٹا، تم بہت مصروف رہے ہو… میں سمجھتی ہوں۔”
یہ الفاظ عابد کے دل میں تیر کی طرح لگے۔
وہ رات ماں کے پاس بیٹھا رہا—بغیر گھڑی دیکھے۔
چند دن بعد ماں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
عابد کے ہاتھ میں اب وقت تھا—
مگر جس کے لیے چاہیے تھا، وہ نہیں تھی۔
اس دن اس نے پہلی بار گھڑی اتار کر دراز میں رکھ دی۔
اب وہ بیٹی کے ساتھ بیٹھتا، باتیں سنتا، اور سمجھ گیا تھا:
وقت واپس نہیں آتا، بس دیا جاتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
👉 وقت سب سے مہنگی دولت ہے۔
👉 جو وقت ہم آج نہیں دیتے، کل اس کا افسوس رہ جاتا ہے۔
👉 رشتے توجہ مانگتے ہیں، وعدے نہیں۔
وقت کی قسط ہم سب پر واجب ہے—
اور اگر وہ ادا نہ کی جائے،
تو زندگی جرمانہ لے لیتی ہے۔
— اختتام —