← تمام اردو کہانیاں

وقت کا قرض

An old wall clock near a window, soft morning light, thoughtful and emotional mood

عمران ایک عام سا نوجوان تھا۔ اس کی سب سے بری عادت یہ تھی کہ وہ ہر کام کل پر چھوڑ دیتا تھا۔ اس کے نزدیک وقت ہمیشہ بہت تھا۔ اگر ماں کچھ کہتی تو جواب ملتا، “ابھی نہیں، بعد میں۔”
اگر باپ نصیحت کرتا تو عمران مسکرا کر ٹال دیتا۔

کالج ختم ہوا، نوکری کی تلاش شروع ہوئی، مگر عمران کی عادت نہ بدلی۔ وہ مواقع کو بھی کل پر چھوڑ دیتا۔ دوست آگے نکلتے گئے، وہ وہیں کا وہیں رہا۔

ایک دن اس کے والد سخت بیمار ہو گئے۔ ہسپتال کے کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک بہت تیز لگ رہی تھی۔ عمران پہلی بار وقت کو بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
اس نے والد کا ہاتھ پکڑا تو وہ آہستہ سے بولے:
“بیٹا، میں نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا، مگر وقت کو ضائع نہیں کیا۔ تم نے وقت کو نظرانداز کیا، اب یہ تم سے حساب مانگ رہا ہے۔”

اگلی صبح اس کے والد نہ رہے۔
اس دن عمران کو احساس ہوا کہ وہ بہت کچھ کہہ سکتا تھا، بہت کچھ کر سکتا تھا — مگر “بعد میں” نے سب چھین لیا۔

اس دن کے بعد عمران بدل گیا۔ وہ وقت کی عزت کرنے لگا۔ جو کام آج کا ہوتا، آج ہی کرتا۔ کامیابی آہستہ آہستہ اس کے قدم چومنے لگی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک خلا ہمیشہ رہا۔

وہ جان چکا تھا کہ کچھ قرض وقت پر ادا نہ ہوں تو زندگی بھر کا بوجھ بن جاتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت سب سے قیمتی امانت ہے۔ جو لوگ اسے معمولی سمجھتے ہیں، وہ آخرکار پچھتاوے کے ساتھ اس کا قرض ادا کرتے ہیں۔
وقت نہ رکتا ہے، نہ لوٹتا ہے — اس لیے آج کو کبھی کل پر مت چھوڑیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →