← تمام اردو کہانیاں

آخری خط

An old handwritten letter on a wooden table, soft light, emotional and nostalgic mood

سلیم کو خطوط لکھنے کی عادت تھی، مگر بھیجنے کی نہیں۔
وہ ہر بات کاغذ پر اتار دیتا، مگر لفافہ بند کر کے دراز میں رکھ دیتا۔

اس کا چھوٹا بھائی احسن اس سے ناراض تھا۔ ایک معمولی سی بات، مگر انا دونوں کے درمیان دیوار بن گئی۔ سلیم کئی بار چاہتا کہ بات کرے، مگر ہر بار سوچتا، “کل کر لوں گا۔”

ایک دن اس نے ایک خط لکھا:
“احسن، شاید میں غلط تھا۔ اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو سمجھ لو کہ مجھے تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے۔”

مگر یہ خط بھی دراز میں چلا گیا۔

کچھ دن بعد ایک فون آیا۔
احسن ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔

ہسپتال کے کمرے میں سلیم کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ دراز میں پڑے خطوط کو یاد کر رہا تھا۔
وہ لفظ جو کہے جا سکتے تھے، وہ معافیاں جو مانگی جا سکتی تھیں۔

احسن ہوش میں آیا، مگر زیادہ دیر نہیں۔
سلیم نے روتے ہوئے کہا:
“میں نے تمہارے لیے خط لکھا تھا…”

احسن نے کمزور سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“بھائی، خط مت لکھا کرو… بات کر لیا کرو۔”

وہ احسن کے آخری الفاظ تھے۔

گھر آ کر سلیم نے وہ دراز کھولی۔ سارے خط نکالے، اور پہلی بار اس نے انہیں جلایا نہیں، بلکہ سمجھا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ لفظ دراز میں نہیں رکھے گا، دل سے زبان تک لے آئے گا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کو مؤخر کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔
جو بات آج کہی جا سکتی ہے، وہ کل شاید سننے والا نہ رہے۔
لفظ اگر دل میں رہ جائیں تو خط بن جاتے ہیں، اور خط اکثر بہت دیر سے پڑھے جاتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →