خالی بینچ
پارک کے کونے میں رکھی وہ بینچ عام سی تھی۔ ہر شام وہیں ایک بوڑھا شخص آ کر بیٹھتا، اخبار کھولتا، اور آہستہ آہستہ چائے پیتا۔
لوگ اسے روز دیکھتے تھے، مگر پہچانتے نہیں تھے۔ بچوں کے لیے وہ بس ایک خاموش بوڑھا تھا، نوجوانوں کے لیے ایک غیر ضروری منظر۔
ایک دن ایک لڑکا اس کے پاس بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے مسکرا کر پوچھا، “پریشان لگتے ہو؟”
لڑکے نے کہا، “سب کچھ ہے، پھر بھی دل خالی ہے۔”
بوڑھا ہنس پڑا۔ “خالی چیزیں ہی سب سے زیادہ بولتی ہیں۔”
یہ مختصر سی بات روز کی گفتگو بن گئی۔ بوڑھا اپنے تجربات سناتا، لڑکا سنتا۔ وقت آہستہ آہستہ دو اجنبیوں کو اپنا بنا رہا تھا۔
ایک دن بوڑھا نہیں آیا۔ دوسرے دن بھی نہیں۔ بینچ خالی تھی۔
لڑکا وہیں بیٹھا رہا، جیسے کسی کا انتظار ہو۔
تیسرے دن پارک کے مالی نے بتایا، “وہ بابا اب نہیں رہے۔ کل دفنا دیے گئے۔”
لڑکے کو یوں لگا جیسے کسی نے دل سے کچھ کھینچ لیا ہو۔ وہ پہلی بار سمجھا کہ خاموش موجودگی بھی رشتہ بن جاتی ہے۔
کچھ دن بعد اس نے اسی بینچ پر بیٹھ کر ایک اور پریشان بچے سے پوچھا: “کیا بات ہے؟”
بینچ اب خالی نہیں تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں کچھ لوگ بغیر شور کیے ہمارے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔
جب وہ چلے جاتے ہیں، تب احساس ہوتا ہے کہ خالی جگہ اصل میں کتنی بھری ہوئی تھی۔
اگر کوئی خاموشی سے آپ کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ محض وقت نہیں — زندگی بانٹ رہا ہوتا ہے۔
— اختتام —