← تمام اردو کہانیاں

بارش کے بعد

A wet empty street after rain, reflections on road, soft evening light, calm and hopeful mood

بارش مسلسل تین دن سے ہو رہی تھی۔
گلیاں سنسان، دکانیں بند، اور لوگوں کے چہرے تھکے ہوئے تھے۔
اسی گلی کے ایک کونے میں آصف کی چھوٹی سی دکان تھی، جو اب تقریباً خالی رہتی تھی۔

کبھی یہی دکان اس کی پہچان تھی۔
لوگ دور دور سے آتے، اس کی ایمانداری کی مثال دیتے۔
مگر وقت بدلا، بڑے اسٹور آ گئے، گاہک کم ہوتے گئے۔

آصف نے کبھی شکایت نہیں کی۔
ہر صبح دکان کھولتا، صفائی کرتا،
اور امید کے ساتھ بیٹھ جاتا۔

ایک دن تیز بارش میں اس کی دکان کے سامنے پانی بھر گیا۔
گاہک آنا ناممکن ہو گیا۔
آصف کرسی پر بیٹھا بارش دیکھتا رہا۔
آنکھوں میں نمی تھی، مگر زبان پر شکوہ نہیں۔

اسی بارش میں ایک عورت پھسل گئی۔
آصف فوراً باہر نکلا،
اسے سہارا دیا، اندر بٹھایا،
اور گرم چائے دی۔

عورت نے جاتے ہوئے کہا،
“میں یہاں روز آیا کروں گی۔
آج آپ نے مجھے نہیں، میرے حوصلے کو بچایا ہے۔”

چند دن بعد بارش رک گئی۔
گلی صاف ہو گئی۔
دکان پر آہستہ آہستہ رونق لوٹنے لگی۔

آصف مسکرا رہا تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ
بارش صرف راستے نہیں دھوتی،
انسان کا صبر بھی آزماتی ہے —
اور جو ٹک جائے،
وہی نکھر کر سامنے آتا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل وقت مستقل نہیں ہوتا۔
جو انسان صبر اور انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتا،
اس کے لیے بارش کے بعد راستے خود بخود صاف ہو جاتے ہیں۔
زندگی میں اصل کامیابی حوصلہ ہارنے میں نہیں،
بلکہ ٹھہرے رہنے میں ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →