← تمام اردو کہانیاں

خاموش چراغ

A small oil lamp glowing in a dark rural room, soft light, emotional, minimalistic

گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا کچا مکان تھا، جس میں رشید رہتا تھا۔ نہ اس کا گھر بڑا تھا، نہ خواب چھوٹے۔ دن بھر وہ شہر میں ایک پرانی دکان پر کام کرتا، شام کو لوٹتے ہوئے سبزی یا روٹی لے آتا اور رات اپنے تیل کے چراغ کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا رہتا۔

لوگ اکثر اس کا مذاق اڑاتے۔
"اتنی محنت کر کے کیا ملے گا؟"
"اس چراغ سے تو اندھیرا ہی زیادہ لگتا ہے!"

رشید مسکرا دیتا، جواب کبھی نہ دیتا۔

اس کے والد کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا۔ ماں سلائی کر کے گھر چلاتی تھی۔ رشید نے بہت کم عمری میں سیکھ لیا تھا کہ زندگی شور نہیں مانگتی، برداشت مانگتی ہے۔

ایک رات بارش بہت تیز تھی۔ ہوا کے جھونکوں سے چراغ بار بار بجھنے کو ہوتا۔ رشید ہر بار احتیاط سے اسے بچاتا۔ ماں نے کہا: "بیٹا، سو جاؤ، صبح کام پر بھی جانا ہے۔"

رشید نے دھیرے سے جواب دیا:
"اماں، یہ چراغ بجھ گیا تو میرا حوصلہ بھی کانپ جائے گا۔"

وقت گزرتا گیا۔ وہی چراغ، وہی کتابیں، وہی خاموشی۔ برسوں بعد رشید نے شہر کے ایک بڑے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ جب اس کا نام فہرست میں آیا تو لوگ حیران رہ گئے۔ "یہ رشید؟ وہی دکان والا لڑکا؟"

اب اس کے پاس روشنی تھی، لیکن وہ اب بھی عاجز تھا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ گاؤں کے بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ بنایا، جہاں وہ شام کو پڑھنے آتے۔ دیوار پر ایک چراغ آج بھی جلتا تھا۔

ایک دن کسی نے پوچھا:
"اب تو بجلی ہے، یہ چراغ کیوں؟"

رشید مسکرایا اور بولا:
"یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ روشنی ہمیشہ خاموشی سے پیدا ہوتی ہے۔"

چراغ اب بھی جل رہا تھا، مگر اب وہ صرف ایک چراغ نہیں تھا — وہ ایک مثال بن چکا تھا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

خاموش چراغ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قدم مستقل ہوں، تو اندھیرا خود راستہ چھوڑ دیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →