← تمام اردو کہانیاں

وقت کی دیوار

An old cracked wall with a vintage clock hanging, sunset light, symbolic, thoughtful mood

شہر کے پرانے حصے میں ایک لمبی سی دیوار تھی، جسے لوگ وقت کی دیوار کہتے تھے۔ اس دیوار کے ساتھ ایک پرانی گھڑی لٹکی تھی جو برسوں سے چل رہی تھی، مگر کوئی اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔

سلمان روز اسی دیوار کے پاس سے گزرتا۔ وہ ہمیشہ جلدی میں ہوتا۔
"کل کر لوں گا"
"ابھی وقت کہاں ہے"
"زندگی پڑی ہے"

یہ اس کے پسندیدہ جملے تھے۔

اس کے والد اکثر کہتے:
"بیٹا، وقت کا قرض سب سے مہنگا ہوتا ہے۔"

سلمان ہنس دیتا۔

ایک دن اس نے نوکری بدلنے کا سوچا، مگر ٹال دیا۔ ماں سے وعدہ کیا کہ وقت دے گا، مگر پھر مصروف ہو گیا۔ دوستوں کی کالز آتی رہیں، جواب نہ دیا۔

وقت گزرتا گیا، دیوار وہیں کھڑی رہی۔

ایک شام وہی دیوار، وہی گھڑی۔ سلمان ذرا سست قدموں سے چل رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وہ لمحہ بھر کو رُکا۔ گھڑی کی سوئیاں چل رہی تھیں، خاموش، مسلسل، بے رحم۔

اسی لمحے اسے فون آیا — والد اسپتال میں تھے۔

وہ دوڑا، مگر وقت اس سے پہلے پہنچ چکا تھا۔

کچھ دن بعد سلمان دوبارہ اسی دیوار کے پاس کھڑا تھا۔ آج وہ جلدی میں نہیں تھا۔ آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے دیوار کو ہاتھ لگایا، جیسے وقت کو چھونا چاہتا ہو۔

اب وہ بدل چکا تھا۔

وہی سلمان جو ہر چیز مؤخر کرتا تھا، اب لمحوں کو سنبھالنے لگا۔ وہ ماں کے ساتھ بیٹھتا، دوستوں کو وقت دیتا، کام اور زندگی میں توازن سیکھ گیا۔

دیوار اب بھی تھی، مگر اس کے لیے وہ ایک سبق بن چکی تھی۔

لوگ آج بھی جلدی میں گزرتے، مگر سلمان جان چکا تھا:
وقت انتظار نہیں کرتا، مگر سکھا بہت کچھ دیتا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

وقت کی دیوار ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جو لمحہ ہاتھ میں ہے، وہی اصل زندگی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →