← تمام اردو کہانیاں

ادھورا خط

A handwritten letter on an old wooden table, soft window light, emotional, nostalgic

عائشہ کی الماری کے نچلے خانے میں ایک لفافہ برسوں سے پڑا تھا۔ زرد ہو چکا تھا، کنارے مڑ چکے تھے، مگر اندر رکھا کاغذ آج بھی خالی تھا — آدھا خالی۔

وہ خط اس نے اپنی ماں کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔

ہر بار جب قلم اٹھاتی، دل بھاری ہو جاتا۔
"اماں، میں نے آپ کو سمجھا نہیں…"
یہاں آ کر الفاظ رک جاتے۔

عائشہ شہر میں رہتی تھی، مصروف، خود مختار، مگر اندر سے الجھی ہوئی۔ ماں گاؤں میں تھی، سادہ، خاموش، دعا گو۔ فون پر بات ہو جاتی، مگر دل کی بات نہیں۔

ماں کہتی:
"بیٹا، خیریت ہے؟"
عائشہ جواب دیتی:
"ہاں اماں، سب ٹھیک ہے۔"

لفظ وہیں مر جاتے۔

ایک دن عائشہ کو گاؤں سے فون آیا۔ آواز میں کپکپاہٹ تھی۔ ماں اسپتال میں تھیں۔ عائشہ نے وہ ادھورا خط بیگ میں ڈالا اور نکل پڑی۔

راستے بھر وہ خط پڑھتی رہی، حالانکہ اس میں زیادہ لکھا ہی نہیں تھا۔ مگر ہر خالی جگہ میں احساس بھرا ہوا تھا۔

جب وہ پہنچی تو ماں سو رہی تھیں۔ چہرہ کمزور مگر پُرسکون تھا۔ عائشہ نے دھیرے سے خط ان کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

"اماں، میں آ گئی ہوں۔"

ماں نے آنکھیں کھولیں، مسکرائیں، مگر کچھ نہ بولیں۔

اس رات ماں خاموشی سے چلی گئیں۔

صبح عائشہ نے وہ خط کھولا۔ ماں نے اپنی کانپتی ہوئی تحریر میں نیچے ایک جملہ لکھا تھا:

"بیٹا، ماں خط نہیں، دل پڑھتی ہے۔"

عائشہ رو پڑی۔

اب وہ لفافہ الماری میں نہیں، اس کے دل میں تھا — مکمل، مگر دیر سے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ادھورا خط ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کہے گئے لفظ کل کی خاموشی سے بہتر ہوتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →