آخری سیڑھی
حسن ہمیشہ خود کو دوسروں سے پیچھے سمجھتا تھا۔ اسکول میں کم نمبر، نوکری میں کم تنخواہ، اور ہر طرف کامیاب لوگوں کے قصے۔ لوگ کہتے:
"یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔"
حسن سنتا رہا، چپ چاپ۔
وہ ایک پرانی عمارت میں کام کرتا تھا جہاں ہر روز اسے پانچ منزلیں سیڑھیاں چڑھنی پڑتی تھیں۔ لفٹ خراب رہتی۔ اکثر لوگ شکایت کرتے، مگر حسن خاموشی سے چڑھتا رہتا۔
ہر سیڑھی پر سانس بھاری ہو جاتا، ٹانگیں کانپتیں، مگر وہ رکتا نہیں تھا۔
ایک دن اس نے سوچا:
"زندگی بھی انہی سیڑھیوں جیسی ہے۔ ہر قدم تھکا دیتا ہے، مگر رکنا نیچے لے جاتا ہے۔"
اسی دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کرے گا۔ راتوں کو جاگ کر پڑھتا، دن کو کام کرتا۔ لوگ ہنستے:
"اب کیا بنے گا؟"
وقت گزرا۔ حسن نے امتحان پاس کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔
ایک دن اسی عمارت میں وہ اوپر کی منزل پر نئے دفتر میں داخل ہوا — اب وہ ملازم نہیں، افسر تھا۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا، نیچے سیڑھیوں کو دیکھا اور مسکرایا۔
"سب سے مشکل قدم آخری نہیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جس پر ہم رکنے کا سوچتے ہیں۔"
حسن جان چکا تھا کہ آخری سیڑھی ہمیشہ وہی چڑھتا ہے جو ہمت نہیں چھوڑتا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- کامیابی اکثر آخری کوشش کے بعد ملتی ہے
- جو لوگ خاموشی سے محنت کرتے ہیں، وہی آگے بڑھتے ہیں
- تھکن رکنے کا بہانہ نہیں، بڑھنے کا اشارہ ہے
- خود پر یقین سب سے مضبوط سہارا ہے
— اختتام —