نمک کی قیمت
بشیر کا چھوٹا سا کریانے کا اسٹور گاؤں کے چوک میں تھا۔ لکڑی کی پرانی الماریاں، شیشے کی بوتلیں، اور ایک کونا جہاں نمک کے تھیلے رکھے ہوتے تھے۔ بشیر زیادہ باتیں نہیں کرتا تھا، مگر اس کی ترازو ہمیشہ سیدھی رہتی تھی۔
لوگ کہتے تھے:
"یہ آدمی نفع کم کماتا ہے، مگر دل بڑا ہے۔"
ایک دن شہر سے ایک تاجر آیا۔ اس نے بڑی مقدار میں نمک خریدنا چاہا۔ بشیر نے تولنا شروع کیا۔ ترازو میں معمولی سا فرق رہ گیا۔ تاجر نے مسکرا کر کہا:
"رہنے دو، اتنا تو چلتا ہے۔"
بشیر نے ترازو درست کی اور بولا:
"نمک کم ہو جائے تو ذائقہ بگڑ جاتا ہے، اور ناپ کم ہو جائے تو نیت۔"
تاجر کو یہ بات عجیب لگی، مگر اس نے خاموشی سے پیسے دیے۔
کچھ دن بعد گاؤں میں قحط جیسے حالات ہو گئے۔ چیزیں مہنگی، آمدنی کم۔ کئی دکاندار ناپ تول میں کمی کرنے لگے۔ بشیر نے نہیں کی۔
لوگ حیران تھے کہ وہ کیسے گزارا کر رہا ہے۔
ایک صبح وہی تاجر واپس آیا۔ اس نے بشیر کی دکان خرید لی — مگر ایک شرط پر:
"دکان تم ہی چلاؤ گے۔"
بشیر نے پوچھا:
"کیوں؟"
تاجر نے کہا:
"مجھے نفع والے نہیں، نمک کی قیمت جاننے والے لوگ چاہیے۔"
بشیر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ جان گیا کہ ایمانداری کا نفع دیر سے ملتا ہے، مگر پکا ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- دیانت داری سب سے قیمتی سرمایہ ہے
- چھوٹی بے ایمانی بڑے نقصان کی بنیاد بنتی ہے
- ضمیر مطمئن ہو تو زندگی ہلکی ہو جاتی ہے
- اصل قیمت پیسوں کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے
— اختتام —