خالی کرسی
کلاس روم کے آخری کونے میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہتی تھی۔ پہلی نظر میں وہ عام سی کرسی تھی، مگر استاد سلیم کی نظر ہر دن سب سے پہلے اسی پر پڑتی تھی۔
وہ کرسی کبھی علی کی ہوا کرتی تھی۔
علی خاموش لڑکا تھا۔ نہ زیادہ سوال، نہ زیادہ باتیں۔ بس وقت پر آتا، سب سے پیچھے بیٹھتا اور توجہ سے سنتا۔ استاد اکثر سوچتے کہ یہ لڑکا بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر کہہ نہیں پاتا۔
ایک دن علی نہیں آیا۔ استاد نے حاضری لگائی، نام پکارا، کوئی جواب نہیں آیا۔
دوسرا دن، تیسرا دن… کرسی خالی رہی۔
استاد نے اسکول انتظامیہ سے پوچھا۔ پتا چلا علی کے والد بیمار تھے، گھر کے حالات خراب تھے، اور علی نے پڑھائی چھوڑ کر کام شروع کر دیا تھا۔
اس دن استاد سلیم دیر تک خالی کرسی کو دیکھتے رہے۔
انہیں یاد آیا کہ کس طرح وہ علی کی خاموشی کو نظر انداز کرتے رہے۔ کبھی پوچھا نہیں، کبھی حوصلہ نہیں دیا۔ وہ سوچتے رہے: "کاش میں نے ایک بار اس سے کہا ہوتا کہ تم اہم ہو۔"
کچھ مہینے بعد استاد کو بازار میں علی ملا۔ ہاتھ میں اوزار، آنکھوں میں تھکن۔ استاد نے پوچھا: "پڑھائی کیوں چھوڑ دی؟"
علی نے آہستہ سے کہا: "سر، کسی نے محسوس ہی نہیں کیا کہ میں جا رہا ہوں۔"
یہ جملہ استاد کے دل پر بوجھ بن گیا۔
اگلے دن استاد نے کلاس میں ایک نئی کرسی رکھی — خالی۔ اور بچوں سے کہا: "یہ ہمیں یاد دلائے گی کہ جو خاموش ہیں، وہ بھی ہماری توجہ کے حقدار ہیں۔"
خالی کرسی اب ایک سبق تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموش لوگ اکثر سب سے زیادہ توجہ کے محتاج ہوتے ہیں
- نظر انداز کرنا بھی ایک قسم کی ناانصافی ہے
- استاد، والدین اور معاشرہ سب ذمہ دار ہیں
- ایک جملہ، ایک توجہ، کسی کی زندگی بدل سکتی ہے
— اختتام —