← تمام اردو کہانیاں

آخری خواب

نیم تاریک کمرے میں ایک بستر، جس کے پاس جلتا ہوا دیا اور کھڑکی سے آتی دھند۔

عارف پچھلے دو ہفتوں سے نہیں سویا تھا۔ یا شاید وہ مسلسل سو رہا تھا — اسے خود بھی یقین نہیں تھا۔ دن اور رات کے بیچ جیسے کوئی باریک پردہ رہ گیا تھا، جس کے اس پار صرف خواب بولتے تھے۔

اُس نے بتایا تھا کہ وہ ایک ہی خواب بار بار دیکھتا ہے — ایک خالی گلی، ایک پرانا مکان، اور ایک عورت جو ہر بار کھڑکی سے جھانکتی ہے مگر کبھی بولتی نہیں۔ وہ چاہتا تھا جاننا کہ وہ عورت کون ہے۔

ایک رات اس نے خود سے کہا، “آج اگر وہ پھر آئی، تو میں کھڑکی کے پاس جاؤں گا۔” اور وہ گیا۔ خواب میں قدم رکھتے ہی ہوا تھم گئی، گلی جیسے سانس روک کر دیکھ رہی ہو۔

وہ کھڑکی کے قریب پہنچا۔ عورت کے چہرے پر روشنی تھی، جیسے چاندنی میں کسی پرانے وقت کی جھلک۔ اُس نے کہا، “تم آخر کون ہو؟”

عورت مسکرائی — “میں وہ ہوں جسے تم نے کبھی جگایا نہیں۔ تمہاری نیند میں قید یاد۔” عارف پیچھے ہٹا۔ “یاد؟ مگر میں تو تمہیں نہیں جانتا۔”

“جانتے تھے، مگر بھول گئے۔ میں وہ لمحہ ہوں جو تمہارے بچپن کے ساتھ دفن ہوا، جب تم نے خواب دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔”

عارف کے ہونٹ کپکپائے۔ “تو کیا یہ سب خواب ہے؟” عورت نے دھیرے سے کہا، “خواب نہیں، واپسی ہے۔”

اگلی صبح لوگ اسے کمرے میں بےہوش پائے۔ کھڑکی کھلی تھی، ہوا اندر آ رہی تھی، اور میز پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: *“میں جاگ گیا ہوں — آخرکار۔”*

مفہوم / عکاسی:
“آخری خواب” یہ بتاتا ہے کہ انسان اکثر اپنے خوابوں سے الگ ہو کر جیتا ہے، مگر سچائی کبھی مٹتی نہیں — وہ خواب بن کر واپس آتی ہے۔ جاگنے کا مطلب ہمیشہ آنکھ کھولنا نہیں، کبھی کبھی، خود کو پہچان لینا بھی جاگنا ہوتا ہے۔

— اختتام —