← تمام اردو کہانیاں

رنگوں کی خاموشی

نیم روشنی والے اسٹوڈیو میں رنگوں سے بھرا کینوس، جس کے سامنے ایک بوڑھا مصور خاموش بیٹھا ہے۔

اسٹوڈیو کی دیواروں پر سینکڑوں تصویریں لگی تھیں، مگر ایک بھی دستخط شدہ نہیں۔ میں نے پوچھا، “آپ اپنی پینٹنگز پر نام کیوں نہیں لکھتے؟” وہ مسکرایا — “نام انسان کا ہوتا ہے، فن تو خود بولتا ہے۔”

وہ بوڑھا مصور تھا، *ارمان الیاس* — جو کبھی دنیا کے مشہور گیلریوں میں نمائش کرتا تھا، مگر اب شہر کے کنارے ایک چھوٹے کمرے میں رنگوں سے بات کرتا ہے۔

میں نے ریکارڈر آن کیا۔ “آپ نے مصوری کیوں شروع کی؟” اس نے برش کو سیاہ رنگ میں ڈبویا، اور بولا، “کیونکہ الفاظ کمزور تھے۔ ایک دن ماں رو رہی تھی، میں نے اسے چپ نہیں کرایا — بس کاغذ پر ایک سورج بنا دیا۔ وہ مسکرا دی۔ تب سمجھ آیا کہ رنگوں میں تسلی ہے۔”

“آپ کے کام میں خاموشی بہت ہے،” میں نے کہا۔ وہ بولا، “کیونکہ خاموشی سب سے سچا رنگ ہے۔ چیخنے والے رنگ مر جاتے ہیں، مگر جو خاموش رہیں — وہ برسوں بعد بھی بولتے ہیں۔”

میں نے ایک ادھوری پینٹنگ دیکھی۔ نیلا آسمان، سرخ درخت، اور درمیان میں خالی کرسی۔ “یہ مکمل نہیں لگ رہی،” میں نے کہا۔ وہ مسکرایا، “یہی تو مکمل ہے۔ زندگی بھی تو خالی جگہوں سے بھری ہے — اگر سب کچھ بھر دو، تو کہانی ختم ہو جاتی ہے۔”

شام ہونے لگی۔ روشنی کم، مگر رنگ روشن ہو گئے۔ میں نے آخری سوال کیا: “اگر زندگی ایک کینوس ہو، تو آپ اسے کس رنگ میں رنگیں گے؟”

اس نے برش رکھا، میری طرف دیکھا، اور بولا، “پارسے رنگ میں — جو دکھائی نہیں دیتا، مگر ہر رنگ میں چھپا رہتا ہے۔”

میں اسٹوڈیو سے نکلا، مگر اس کے لفظ میرے اندر پھیل گئے — جیسے کسی نے خاموشی کو رنگ دیا ہو۔

مفہوم / عکاسی:
“رنگوں کی خاموشی” یہ سکھاتی ہے کہ تخلیق ہمیشہ شور میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات فنکار تب سب سے زیادہ بولتا ہے جب وہ کچھ نہیں کہتا۔ خاموشی بھی ایک رنگ ہے — بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔

— اختتام —