آخری چائے
پرانی حویلی کے صحن میں وہ دونوں خاموش بیٹھے تھے۔ چائے کے کپوں سے ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی، اور درمیان میں صرف وہ سب کچھ تھا جو کبھی کہا نہیں گیا۔
زارا نے آہستہ سے پوچھا، “امی، آپ اکیلی نہیں لگتیں؟” صفیہ بیگم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “اکیلا وہ ہوتا ہے جو یادوں سے خالی ہو، میں تو ان سے بھری ہوں۔”
دس سال بعد زارا اپنے شہر لوٹی تھی — بڑے خواب، بڑی کامیابیاں، اور ایک خالی دل لے کر۔ گھر کی دیواریں اب اجنبی لگ رہی تھیں، جیسے وقت نے ان میں بھی خاموشی بھردی ہو۔
صفیہ بیگم نے چائے ڈالتے ہوئے کہا، “جب تم گئی تھیں، تو دروازے کے قریب رُک کر کہا تھا — ‘امی، میں جلد واپس آؤں گی۔’ میں نے تب سوچا تھا، شاید وعدے بھی موسموں کی طرح بدل جاتے ہیں۔”
زارا کے لب کپکپائے۔ “میں خود کو تلاش کرنے گئی تھی…” “اور کیا ملی؟” “خود نہیں… صرف خالی شور۔”
ہوا کے جھونکے سے صحن میں رکھے آم کے پتے ہلے۔ صفیہ بیگم نے کپ میں ایک گھونٹ لیا، “جب تم چھوٹی تھیں، چائے میں چینی چھپا کر ہنس دیا کرتی تھیں۔ اب ہر گھونٹ میں تمہارا ذائقہ بدل گیا ہے۔”
زارا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ “امی، اگر وقت پلٹ جائے تو…” صفیہ بیگم نے بات کاٹی، “وقت کبھی پلٹتا نہیں، صرف لوگ پلٹ سکتے ہیں — اگر چاہیں تو۔”
دور سے اذان کی آواز آئی۔ شام کا سایہ صحن پر پھیل گیا۔ زارا نے آہستہ سے چائے کا آخری گھونٹ پیا۔ “امی، کل صبح میں جا رہی ہوں…”
صفیہ بیگم نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا، اور بولیں، “میں بھی جا رہی ہوں — ماضی میں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں تم نہیں آؤ گی۔”
وہ دونوں مسکرائیں — وہ ادھوری مسکراہٹ جو صرف مائیں اور بیٹیاں سمجھ سکتی ہیں۔ کپ خالی ہو گیا، مگر گفتگو ابھی باقی تھی۔
مفہوم / عکاسی:
“آخری چائے” رشتوں کے اس لمحے کو دکھاتی ہے
جب محبت اور وقت آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔
بعض اوقات، سب سے بڑی گفتگو وہ ہوتی ہے
جو خاموشی میں ہوتی ہے۔
— اختتام —