یاد کا دریا
دریا کے کنارے شام کی ہلکی روشنی میں وہ خاموش بیٹھا تھا۔ پانی میں سورج کا عکس پگھل رہا تھا، جیسے وقت خود اپنی کہانی بہا لے جا رہا ہو۔
ایان کے ہاتھ میں ایک پرانا کاغذ تھا — اس پر کسی کے حرف، جو برسوں پہلے مٹ چکے تھے۔ “پانی میں پھینک دوں؟” اس نے خود سے پوچھا۔ پھر ہلکا سا ہنسا، “یادیں کب ڈوبتی ہیں…”
ہوا کے ساتھ دریا سے ٹھنڈی خوشبو آئی۔ ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ کوئی پکار رہا ہے — جیسے ماضی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہو۔ وہ مڑا، مگر وہاں صرف خالی فضا تھی۔
“تم چلی گئیں، مگر تمہارے موسم ابھی باقی ہیں،” اس نے آہستہ سے کہا۔ پانی کی سطح پر لہر اٹھی — جیسے کسی نے جواب میں سر ہلایا ہو۔
اسے یاد آیا جب وہ دونوں اسی کنارے بیٹھا کرتے تھے۔ وہ کہتی تھی، “پانی سب کچھ بہا دیتا ہے، مگر آنکھوں کی نمی کبھی نہیں لے جاتا۔”
اس نے کاغذ کو آہستہ سے موڑا، دریا میں رکھ دیا۔ کاغذ بہتا گیا — جیسے ایک کہانی اپنے انجام کی طرف روانہ ہو۔
آسمان پر سورج غروب ہو رہا تھا۔ ایان نے آنکھیں بند کیں اور مسکرا دیا۔ “شاید سکون یہی ہے — جب ہم ماضی سے لڑنا چھوڑ دیں، اور اسے بہنے دیں۔”
دریا نے آخری بار چمک کر جیسے کہا، “یادیں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس شکل بدل لیتی ہیں۔”
مفہوم / عکاسی:
“یاد کا دریا” ہمیں یہ احساس دلاتی ہے
کہ کچھ باتیں بھلانے کے لیے نہیں ہوتیں —
انہیں صرف بہنے دینا سیکھنا ہوتا ہے۔
سکون مٹانے میں نہیں،
قبول کرنے میں چھپا ہوتا ہے۔
— اختتام —