راستوں کے بیچ
سڑک کے دونوں طرف دھند چھائی ہوئی تھی۔ درخت خاموش، فضا بوجھل، اور قدم الجھے ہوئے۔ علی رک گیا — سامنے دو راستے تھے۔ ایک سیدھا شہر کی طرف جاتا تھا، دوسرا پہاڑوں کی طرف۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے وہاں کوئی اشارہ لکھا ہو۔ مگر آسمان ہمیشہ کی طرح خاموش تھا۔
“زندگی میں ہر موڑ پر یہی ہوتا ہے،” وہ خود سے بولا، “ایک راستہ شور کی طرف، دوسرا سکون کی طرف — اور ہم ہمیشہ شور چنتے ہیں، کیونکہ وہاں لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں سنتے ہیں، چاہے سمجھتے نہ ہوں۔”
اس نے آنکھیں بند کیں۔ یاد آیا — بچپن میں ماں کہا کرتی تھی، “بیٹا، سب سے مشکل راستہ وہ ہوتا ہے جہاں تمہیں خود سے بات کرنی پڑے۔”
ہوا میں ہلکی سی خوشبو تھی — شاید کسی پرانی بارش کی۔ اس نے پہاڑوں کی طرف قدم بڑھایا۔ رستہ خاموش تھا، مگر ہر پتھر، ہر درخت جیسے کہانی سنانے کو بےتاب تھا۔
سفر طویل تھا، مگر دل ہلکا۔ ایک مقام پر پہنچ کر وہ بیٹھ گیا۔ سامنے وادی پھیلی تھی — دھند کے پار سورج جھانک رہا تھا۔ اور اس لمحے اسے لگا، “شاید منزل کوئی جگہ نہیں، بلکہ وہ سکون ہے جو ہم کسی موڑ پر پا لیتے ہیں۔”
نیچے سے کسی پرانے دوست کی آواز آئی، “تم غلط راستے پر ہو، علی!” وہ مسکرایا۔ “نہیں، شاید پہلی بار درست ہوں۔”
سورج پوری طرح نکل آیا۔ دھند چھٹنے لگی، اور دونوں راستے ایک ہی سمت کو مل گئے۔
مفہوم / عکاسی:
“راستوں کے بیچ” یہ سکھاتی ہے
کہ زندگی میں اکثر صحیح اور غلط راستے نہیں ہوتے —
بس وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہم رک کر خود کو سن لیتے ہیں۔
شاید سکون کسی منزل میں نہیں،
بلکہ رکنے کے حوصلے میں چھپا ہے۔
— اختتام —