ادھوری نظم
رات کے آخری پہر میں قلم رک گیا۔ کاغذ پر صرف ایک مصرعہ تھا — “خاموشی بھی کبھی بولتی ہے…” اور بس۔ آگے کوئی لفظ نہیں آیا۔
عارف، جو برسوں سے کہانیاں لکھ رہا تھا، آج خود اپنی کہانی میں کھو گیا تھا۔ اس کے سامنے نوٹ بک کھلی تھی، مگر اندر جیسے کسی نے تمام الفاظ چرا لیے ہوں۔
“ادب کب مکمل ہوتا ہے؟” اس نے خود سے پوچھا۔ ہوا نے جواب دیا، “جب لکھنے والا اپنے آپ کو قاری بنا لے۔”
دیوار پر لگی گھڑی نے تین بجائے۔ باہر بارش ہو رہی تھی — ہر بوند جیسے کسی بھولے ہوئے جملے کو دہرا رہی ہو۔
وہ کھڑکی کے پاس گیا، قلم ہاتھ میں تھا۔ “شاید نظم کو لفظ نہیں، احساس چاہیے…” اس نے سوچا، “اور احساس تب آتا ہے جب دل کسی چیز کو کھو دیتا ہے۔”
یاد آیا — وہ لڑکی جس کے خطوط کبھی نہ ملے، وہ وعدے جو وقت کی الماری میں بند رہ گئے، اور وہ نظم جو اس نے اس کے لیے لکھی تھی — مگر ختم نہیں کی۔
اس نے واپس میز پر بیٹھ کر لکھنا شروع کیا: “خاموشی بھی کبھی بولتی ہے، جب لفظ روٹھ جائیں، جب دل لکھنا چھوڑ دے، مگر کاغذ انتظار کرے…”
نظم مکمل ہوئی۔ مگر اس میں اختتام نہیں تھا — صرف ایک سطر: “کہانی ختم نہیں ہوئی، بس رک گئی ہے…”
صبح ہوئی، سورج کی پہلی کرن نے شمع بجھا دی۔ نوٹ بک بند ہو گئی — مگر اس کے اندر موجود لفظ اب کسی اور دل میں جاگنے والے تھے۔
مفہوم / عکاسی:
“ادھوری نظم” یہ سکھاتی ہے
کہ ادب کا حسن اس کی تکمیل میں نہیں،
اس کے *ادھورے پن* میں ہے۔
بعض تحریریں ختم نہیں ہوتیں،
بلکہ وہیں سے کسی اور کے دل میں شروع ہو جاتی ہیں۔
— اختتام —