بند دروازہ
ارسلان نے پہلی بار جب اس دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ہاتھ میں فائل تھی، آنکھوں میں خواب، اور ذہن میں ہزاروں امیدیں۔ مگر دروازہ کھلا، چند رسمی سوال ہوئے، اور پھر وہ جملہ:
"ہم آپ کو بعد میں اطلاع دیں گے۔"
یہ "بعد میں" کبھی نہیں آیا۔
ایک دروازہ بند ہوا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ ہر بار ارسلان خود کو سمجھاتا:
"شاید یہی میری قسمت ہے۔"
گھر والے بھی کہنے لگے:
"کچھ اور سوچ لو، یہ راستہ تمہارے لیے نہیں۔"
مگر ارسلان کے اندر کہیں ایک ضد سی جاگ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بند دروازے اس کی محنت کا فیصلہ نہیں ہوتے، بلکہ اس کے صبر کا امتحان ہوتے ہیں۔
ایک رات وہ چھت پر بیٹھا تھا۔ سامنے محلے کے گھروں کے دروازے بند تھے، مگر کچھ کھڑکیوں سے روشنی آ رہی تھی۔ اسے خیال آیا:
"ہر بند دروازے کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی روشنی ضرور ہوتی ہے۔"
اسی رات اس نے خود سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ آن لائن پڑھنا شروع کیا، چھوٹے کام کیے، غلطیاں کیں، سیکھا۔ مہینوں بعد اس نے خود اپنا کام شروع کیا۔
کچھ عرصے بعد وہی دفتر، وہی دروازہ — مگر اس بار ارسلان کسی نوکری کے لیے نہیں، ایک معاہدے کے لیے آیا تھا۔
دروازہ کھلا، مگر اب اس کے اندر جھجک نہیں تھی، اعتماد تھا۔
وہ مسکرایا اور دل میں سوچا: "اگر وہ دروازے بند نہ ہوتے، تو میں کبھی اپنا راستہ نہ بناتا۔"
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر انکار ناکامی نہیں ہوتا
- بند دروازے ہمیں خود کو پہچاننے کا موقع دیتے ہیں
- صبر اور مستقل مزاجی راستے خود بنا لیتی ہے
- خود پر یقین سب سے بڑی طاقت ہے
— اختتام —