← تمام اردو کہانیاں

ٹوٹا ہوا گھڑیال

A broken vintage wall clock hanging on a faded wall, moody light, symbolic and emotional

نعمان ہمیشہ کہتا تھا: "ابھی وقت ہے۔"

دوستوں کی کال آئے تو جواب نہ دیتا، ماں کچھ کہتی تو ٹال دیتا، اور خود کے خوابوں کو بھی وہ کل پر چھوڑ دیتا۔ اس کے کمرے کی دیوار پر ایک پرانا گھڑیال لگا تھا جو وقت بتاتا رہتا تھا، مسلسل، بے آواز۔

ایک دن گھڑیال گر کر ٹوٹ گیا۔ سوئیاں رک گئیں، وقت ٹھہر گیا۔

نعمان نے غور نہ کیا۔

اسی ہفتے ایک نوکری کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ پھر ایک دوست ناراض ہو گیا۔ ماں کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی۔ نعمان پہلی بار گھبرا گیا۔

اس نے دیوار کی طرف دیکھا — گھڑیال اب بھی وہیں تھا، ٹوٹا ہوا، خاموش۔

اسے احساس ہوا کہ جب وقت کی قدر نہ کی جائے تو زندگی خود گھڑی روک دیتی ہے۔

نعمان نے گھڑی ٹھیک کروائی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے رویے بھی ٹھیک کرنے شروع کیے۔ دوستوں کو وقت دیا، ماں کے ساتھ بیٹھا، اور خوابوں پر کام شروع کیا۔

اب گھڑی چل رہی تھی، مگر نعمان کے لیے اصل وقت وہ تھا جو وہ زندہ دل ہو کر گزار رہا تھا۔

وہ جان چکا تھا:
ٹوٹا ہوا گھڑیال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت نہیں، ہم ٹوٹتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ٹوٹا ہوا گھڑیال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر وقت چل رہا ہے تو ہمیں بھی چلنا چاہیے — ورنہ زندگی ہمیں روک کر سبق سکھاتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →