چراغ کے نیچے
اقبال محلے کا سب سے پڑھا لکھا شخص سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کسی بھی مسئلے پر اس کے پاس آتے، مشورہ لیتے، اور مطمئن ہو کر لوٹ جاتے۔ اقبال کو اپنی عقل اور علم پر فخر تھا۔
اس کے کمرے میں ایک پرانا چراغ رکھا تھا جو رات کو جلتا رہتا۔ وہ اسی چراغ کے نیچے کتابیں پڑھتا، نوٹس بناتا، اور دوسروں کو نصیحتیں کرتا۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کی اپنی زندگی میں بے ترتیبی تھی۔ وقت کی پابندی نہ تھی، وعدے اکثر ٹوٹ جاتے، اور رشتے آہستہ آہستہ کمزور ہو رہے تھے۔
ایک رات چراغ کی لو کچھ مدھم ہو گئی۔ اقبال نے تیل ڈالا، لو پھر تیز ہو گئی۔ مگر اس کے دل میں ایک سوال جاگ اٹھا:
"میں دوسروں کو روشنی دے رہا ہوں، مگر خود کیوں الجھا ہوا ہوں؟"
اسی رات اس نے اپنی ہی لکھی ہوئی پرانی ڈائری کھولی۔ اس میں وہی نصیحتیں درج تھیں جو وہ دوسروں کو دیتا تھا — سچ بولنا، وقت کی قدر کرنا، وعدے نبھانا۔
اقبال کی آنکھیں جھک گئیں۔
اگلے دن اس نے سب سے پہلے اپنے وعدے پورے کیے۔ وقت پر پہنچا، سچ بولا، اور معذرت کرنا بھی سیکھا۔ لوگ حیران تھے کہ اب اقبال پہلے سے زیادہ خاموش مگر زیادہ قابلِ احترام ہو گیا تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ
چراغ کے نیچے اندھیرا تب ہوتا ہے، جب ہم خود کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- علم کا اصل فائدہ خود پر عمل کرنے میں ہے
- نصیحت سے پہلے خود احتسابی ضروری ہے
- سچ اور شعور اکثر ہمارے قریب ہوتے ہیں
- جو خود کو سنوار لے، وہ دوسروں کے لیے بہتر مثال بنتا ہے
— اختتام —