← تمام اردو کہانیاں

وہ راستہ جو نظر نہیں آتا

A lone person standing at a foggy crossroads, faint path emerging ahead, soft light, deep and reflective mood

اقبال محلے کا سب سے پڑھا لکھا شخص سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کسی بھی مسئلے پر اس کے پاس آتے، مشورہ لیتے، اور مطمئن ہو کر لوٹ جاتے۔ اقبال کو اپنی عقل اور علم پر فخر تھا۔

اس کے کمرے میں ایک پرانا چراغ رکھا تھا جو رات کو جلتا رہتا۔ وہ اسی چراغ کے نیچے کتابیں پڑھتا، نوٹس بناتا، اور دوسروں کو نصیحتیں کرتا۔

مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کی اپنی زندگی میں بے ترتیبی تھی۔ وقت کی پابندی نہ تھی، وعدے اکثر ٹوٹ جاتے، اور رشتے آہستہ آہستہ کمزور ہو رہے تھے۔

ایک رات چراغ کی لو کچھ مدھم ہو گئی۔ اقبال نے تیل ڈالا، لو پھر تیز ہو گئی۔ مگر اس کے دل میں ایک سوال جاگ اٹھا:
"میں دوسروں کو روشنی دے رہا ہوں، مگر خود کیوں الجھا ہوا ہوں؟"

اسی رات اس نے اپنی ہی لکھی ہوئی پرانی ڈائری کھولی۔ اس میں وہی نصیحتیں درج تھیں جو وہ دوسروں کو دیتا تھا — سچ بولنا، وقت کی قدر کرنا، وعدے نبھانا۔

اقبال کی آنکھیں جھک گئیں۔

اگلے دن اس نے سب سے پہلے اپنے وعدے پورے کیے۔ وقت پر پہنچا، سچ بولا، اور معذرت کرنا بھی سیکھا۔ لوگ حیران تھے کہ اب اقبال پہلے سے زیادہ خاموش مگر زیادہ قابلِ احترام ہو گیا تھا۔

وہ جان چکا تھا کہ
چراغ کے نیچے اندھیرا تب ہوتا ہے، جب ہم خود کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

چراغ کے نیچے ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل روشنی وہ ہے جو سب سے پہلے انسان کے اندر جلتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →