← تمام اردو کہانیاں

وہ سوال جو بدل گیا

A person sitting alone on a bench at sunrise, thoughtful expression, soft golden light, reflective mood

ارحم کی زندگی سوالوں سے بھری ہوئی تھی، مگر ہر سوال ایک ہی تھا:
"یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟"

جب نوکری میں ترقی نہ ملی، یہی سوال۔
جب رشتہ ٹوٹا، یہی سوال۔
جب دوست آگے نکل گئے، یہی سوال۔

وہ خود کو مظلوم نہیں سمجھتا تھا، مگر دل ہی دل میں خود کو کمزور مان چکا تھا۔ اس کا دن شکایت سے شروع ہوتا اور موازنہ پر ختم ہوتا۔

ایک دن اس کی ملاقات اپنے کالج کے پرانے استاد سے ہوئی۔ استاد نے ارحم کے چہرے پر وہی تھکن دیکھی جو برسوں پہلے امتحان کے دنوں میں ہوا کرتی تھی۔

استاد نے پوچھا:
"زندگی کیسی چل رہی ہے؟"

ارحم نے ہنستے ہوئے کہا:
"چل تو رہی ہے، مگر میرے خلاف۔"

استاد نے مسکرا کر کہا:
"ایک سوال پوچھوں؟ تم ہر مسئلے کے بعد کیا سوال کرتے ہو؟"

ارحم نے فوراً جواب دیا:
"یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟"

استاد نے سر ہلایا اور کہا:
"بس یہی مسئلہ ہے۔"

ارحم خاموش ہو گیا۔

استاد نے بات جاری رکھی:
"جب تک تم یہ پوچھتے رہو گے کہ کیوں ہوا، تم پیچھے دیکھتے رہو گے۔ جس دن تم پوچھو گے کہ اب کیا کرنا ہے، تم آگے بڑھنا شروع کرو گے۔"

یہ جملہ ارحم کے اندر کہیں ٹھہر گیا۔

اس رات ارحم نے پہلی بار ڈائری کھولی، مگر شکایت لکھنے کے لیے نہیں۔ اس نے اوپر لکھا:
اب کیا کرنا ہے؟

اس نے اپنی صلاحیتیں لکھیں، اپنی کمزوریاں، اور وہ چیزیں جو وہ بدل سکتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ بہت کچھ اس کے اختیار میں تھا، مگر اس نے کبھی توجہ ہی نہیں دی تھی۔

اگلے ہفتوں میں اس نے چھوٹے مگر مسلسل قدم اٹھائے۔ سیکھنا شروع کیا، وقت کی پابندی کی، اور سب سے اہم — خود پر الزام لگانے کے بجائے خود کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

مسائل ختم نہیں ہوئے، مگر اب وہ ارحم کو روک نہیں پاتے تھے۔

چند مہینوں بعد جب ایک نیا موقع ملا، ارحم تیار تھا۔
اس بار اس نے کامیابی کو حیرت نہیں سمجھا — کیونکہ اس نے خود کو بدل لیا تھا۔

وہ جان چکا تھا کہ
زندگی اس دن بدلتی ہے جس دن سوال بدل جاتا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

وہ سوال جو بدل گیا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
جب ہم پوچھنا سیکھ لیتے ہیں اب کیا کرنا ہے؟
تو زندگی خود جواب دینا شروع کر دیتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →