وہ دن جو نہیں آیا
فراز کے پاس ہمیشہ ایک بہانہ ہوتا تھا۔
آج نہیں، کل۔
ابھی نہیں، مناسب وقت پر۔
بس یہ مرحلہ گزر جائے، پھر شروع کروں گا۔
یہ جملے اس کی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ اس کی میز پر ایک ڈائری رکھی رہتی تھی جس کے پہلے صفحے پر اس نے لکھ رکھا تھا:
"اس سال خود پر کام کروں گا۔"
سال بدل گئے، مگر صفحہ وہیں کا وہیں رہا۔
فراز کا مسئلہ سستی نہیں تھا، بلکہ خوف تھا۔ وہ ڈرتا تھا کہ اگر اس نے شروع کیا اور ناکام ہو گیا تو؟
اس لیے نہ شروع کرنا اسے محفوظ لگتا تھا۔
ایک دن اس کے والد شدید بیمار پڑ گئے۔ اسپتال کے کمرے میں بیٹھے ہوئے فراز کو پہلی بار وقت کی رفتار محسوس ہوئی۔ گھڑی کی ہر ٹِک اس کے دل پر پڑ رہی تھی۔
اسے یاد آیا کہ وہ کتنی باتیں "کبھی" کے لیے چھوڑ چکا تھا — والد کے ساتھ وقت گزارنا، ان سے سیکھنا، ان کا شکریہ ادا کرنا۔
اسی لمحے اس نے دل میں کہا:
"میں یہ سب کل کروں گا۔"
مگر اگلے دن وہ موقع نہ آیا۔
والد تو سنبھل گئے، مگر فراز کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ کل ایک وعدہ ہے جو وقت ہم سے نہیں کرتا — ہم خود اپنے آپ سے کرتے ہیں۔
گھر آ کر اس نے ڈائری دوبارہ کھولی۔ اس بار اس نے نیا صفحہ نہیں پلٹا، بلکہ وہی پرانا صفحہ پڑھا۔ پھر قلم اٹھایا اور نیچے لکھا:
"کل نہیں، آج۔"
اس نے چھوٹے قدم سے آغاز کیا۔ مکمل منصوبہ نہیں بنایا، بس پہلا قدم اٹھایا۔
روز تھوڑا سا، مگر مستقل۔
کچھ مہینوں بعد اس کی زندگی مثالی نہیں تھی، مگر زندہ تھی۔ وہ کام کر رہا تھا، سیکھ رہا تھا، اور سب سے بڑھ کر — ٹال نہیں رہا تھا۔
فراز جان چکا تھا کہ
جو دن ہم بار بار مؤخر کرتے ہیں، وہ آخرکار آنا چھوڑ دیتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ٹال مٹول اکثر خوف کا دوسرا نام ہوتا ہے
- "کل" ایک غیر یقینی وعدہ ہے
- چھوٹا آغاز بھی بڑے بدلاؤ کی بنیاد بنتا ہے
- وقت انتظار نہیں کرتا، مگر عمل راستہ دکھا دیتا ہے
- زندگی کا بہترین دن اکثر "آج" ہوتا ہے
اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو شاید کل ہمیں موقع ہی نہ ملے۔
— اختتام —