دروازہ جو کھل گیا
عادل کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اس کی زندگی میں مواقع کی کمی ہے۔ وہ کہتا تھا:
"میرے لیے کبھی کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔"
حقیقت یہ تھی کہ اس کی زندگی میں کئی دروازے تھے، مگر سب آدھے کھلے ہوئے۔
عادل ہر دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر سوچتا رہتا:
"اگر اندر جا کر ناکام ہو گیا تو؟"
"اگر لوگ ہنسنے لگے تو؟"
اس سوچ نے اسے باہر ہی روکے رکھا۔
ایک دن اسے ایک چھوٹا سا موقع ملا — نہ بہت بڑا، نہ بہت محفوظ۔ اس کے دوست نے کہا:
"یہ تمہارے لیے ٹھیک ہے، بس کوشش کر لو۔"
عادل نے پہلے تو انکار کیا، مگر اس رات وہ دروازے کے خواب دیکھتا رہا — ہر دروازہ آدھا کھلا، اور وہ باہر کھڑا۔
اگلے دن اس نے خود کو مجبور کیا کہ کم از کم ایک قدم اندر رکھے۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر اس نے قدم بڑھا دیا۔
اندر کا منظر مکمل مختلف نہیں تھا — مشکلات وہی تھیں، خوف بھی موجود تھا۔ مگر ایک فرق تھا:
وہ اندر تھا۔
وقت کے ساتھ عادل نے سیکھا، گرا، سنبھلا۔ سب کچھ کامل نہیں تھا، مگر ہر دن اس کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا تھا۔
چند مہینوں بعد جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا، تو حیران ہوتا کہ وہ دروازہ اتنا مشکل نہیں تھا جتنا اس نے سوچ رکھا تھا۔
اب وہ جان چکا تھا کہ
اکثر دروازے ہماری ہمت کا انتظار کرتے ہیں، نہ کہ ہماری مکمل تیاری کا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مواقع ہمیشہ مکمل یقین کے ساتھ نہیں آتے
- خوف فطری ہے، مگر فیصلہ کن نہیں ہونا چاہیے
- پہلا قدم اکثر سب سے مشکل ہوتا ہے
- عمل اعتماد کو جنم دیتا ہے
- زندگی میں کئی دروازے صرف ہمت سے کھلتے ہیں
اگر ہم باہر ہی کھڑے رہیں، تو کھلے دروازے بھی بند لگتے ہیں۔
— اختتام —