← تمام اردو کہانیاں

نامکمل خط

An unfinished handwritten letter on a wooden desk, soft window light, emotional and nostalgic mood

زین کے دراز میں ایک خط رکھا تھا — آدھا لکھا ہوا، بے دستخط، اور برسوں پرانا۔

وہ خط اس نے اپنی ماں کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ ہر بار قلم اٹھاتا، دو جملے لکھتا، پھر رک جاتا۔ الفاظ دل میں تھے، مگر کاغذ پر آنے سے ڈرتے تھے۔

"کہیں کمزور نہ لگوں"
"کہیں دیر نہ ہو جائے"

یہ سوچ کر وہ خط واپس دراز میں رکھ دیتا۔

زندگی آگے بڑھتی گئی۔ زین اپنی مصروفیات میں الجھا رہا۔ ماں ہمیشہ موجود رہی — خاموش، دعا کرتی ہوئی، انتظار کرتی ہوئی۔

ایک دن فون آیا۔ آواز گھبرائی ہوئی تھی۔
ماں اسپتال میں تھیں۔

زین جلدی میں اسپتال پہنچا۔ سفید دیواریں، تیز لائٹیں، اور وہ بستر جس پر ماں خاموش لیٹی تھیں۔ وہ ان کا ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا، مگر الفاظ اب بھی زبان تک نہ آ سکے۔

اسے وہ نامکمل خط یاد آیا۔

اس رات زین گھر آیا، دراز کھولی، خط نکالا۔ وہی پرانے جملے، وہی رکی ہوئی باتیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس نے خط مکمل کیا — بغیر سنوارے، بغیر سوچے۔

مگر یہ خط اب بھیجنے کے لیے نہیں تھا۔

اگلے دن زین نے وہ خط ماں کو پڑھ کر سنایا۔ آواز کانپ رہی تھی، مگر الفاظ سچے تھے۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر چہرے پر سکون۔

انہوں نے آہستہ سے کہا:
"بس یہی سننا تھا۔"

ماں ٹھیک ہو گئیں، مگر زین بدل چکا تھا۔

اس نے جان لیا تھا کہ
جو بات وقت پر کہہ دی جائے، وہ کبھی نامکمل نہیں رہتی۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

نامکمل خط ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر دل میں کوئی بات ہے، تو اسے آج کہہ دیجیے —
کل شاید وقت ہو، مگر موقع نہ ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →