آخری سیڑھی
عاصم کی زندگی سیڑھیوں جیسی تھی — کچھ قدم اوپر، پھر اچانک پھسلن۔
ہر بار جب وہ کسی مقصد کے قریب پہنچتا، کچھ نہ کچھ بگڑ جاتا۔ کبھی امتحان میں ناکامی، کبھی نوکری کا انٹرویو، کبھی اعتماد کی کمی۔
لوگ کہتے:
"شاید یہ تمہارے نصیب میں نہیں۔"
شروع میں عاصم نے یہ باتیں نظر انداز کیں، مگر وقت کے ساتھ وہ الفاظ اس کے اندر بیٹھنے لگے۔
وہ ہر نئی کوشش سے پہلے ہی شکست کا اندازہ لگا لیتا۔
ایک رات وہ چھت پر بیٹھا شہر کی روشنیاں دیکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک پرانی عمارت کی سیڑھیاں تھیں، ادھوری اور ٹوٹی ہوئی۔ وہ نیچے سے اوپر دیکھتا رہا، مگر قدم رکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اسی لمحے اسے اپنی زندگی یاد آ گئی۔
اس نے خود سے کہا:
"شاید یہ آخری سیڑھی ہے… اور شاید میں نہیں چڑھ سکتا۔"
اگلے دن اسے ایک اور موقع ملا — چھوٹا سا، معمولی، مگر اس کے دل سے جڑا ہوا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اب تھک چکا ہوں، مگر اندر کہیں ایک ضد باقی تھی۔
اس بار اس نے کامیابی کا نہیں سوچا۔
اس نے بس یہ سوچا:
"میں ایک قدم اور لے سکتا ہوں۔"
وہ قدم مشکل تھا۔ اعتماد ڈگمگا رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔
دن ہفتوں میں بدلے، اور ہفتے مہینوں میں۔ عاصم آہستہ آہستہ اوپر جا رہا تھا — بغیر شور، بغیر اعلان۔
جب وہ آخرکار اپنی منزل پر پہنچا تو اسے حیرت نہیں ہوئی۔
کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ اصل کامیابی آخری قدم نہیں — بلکہ ہار نہ ماننا تھا۔
عاصم مسکرا کر بولا:
"میں آخری سیڑھی پر اس لیے پہنچا، کیونکہ میں پہلی سیڑھی سے واپس نہیں لوٹا۔"
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- بار بار ناکامی کا مطلب نااہلی نہیں
- اکثر ہم کامیابی سے ایک قدم پہلے رک جاتے ہیں
- ہر قدم کامل نہیں ہوتا، مگر ضروری ہوتا ہے
- مستقل مزاجی شور نہیں کرتی، مگر نتیجہ ضرور دیتی ہے
- خود پر یقین آخری سیڑھی تک لے جاتا ہے
اگر آپ تھک گئے ہیں، تو شاید آپ منزل کے قریب ہیں —
بس ایک قدم اور۔
— اختتام —