آواز جو سنی گئی
ریحان ہمیشہ خاموش رہتا تھا۔ محفل میں ہو تو سننے والا، دفتر میں ہو تو مان لینے والا، اور گھر میں ہو تو سب کی بات ماننے والا۔
لوگ اسے نرم مزاج کہتے تھے، مگر حقیقت یہ تھی کہ ریحان اپنی آواز کھو چکا تھا۔
ہر بار جب وہ کچھ کہنا چاہتا، دل میں ایک خوف آ جاتا:
"کہیں غلط نہ ہو جائے"
"کہیں لوگ برا نہ مان جائیں"
یوں اس نے خاموشی کو عادت بنا لیا۔
ایک دن دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی۔ ایک فیصلہ لیا جا رہا تھا جو ریحان کے کام اور مستقبل دونوں پر اثر ڈالنے والا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ فیصلہ غلط ہے، مگر وہ خاموش رہا۔
فیصلہ ہو گیا — اور نقصان بھی۔
اس رات ریحان دیر تک جاگتا رہا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ خاموشی نے اسے محفوظ نہیں رکھا، بلکہ نقصان پہنچایا ہے۔
اگلے دن اس نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ کم از کم سچ بولنے کی کوشش کرے گا — چاہے آواز کانپے ہی کیوں نہ۔
چند دن بعد ایک اور میٹنگ ہوئی۔ حالات ملتے جلتے تھے، مگر اس بار ریحان نے ہاتھ اٹھایا۔ دل تیز دھڑک رہا تھا، آواز ہلکی تھی، مگر الفاظ واضح تھے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
کسی نے فوراً تعریف نہیں کی، مگر کسی نے نظر انداز بھی نہیں کیا۔ بات سنی گئی۔
بعد میں اس کے سینئر نے آ کر کہا:
"یہ بات پہلے کیوں نہیں کہی؟"
ریحان مسکرا دیا۔
"کیونکہ میں خود کو سننے سے ڈرتا تھا۔"
وقت کے ساتھ اس کی آواز مضبوط ہوتی گئی۔ وہ چیختا نہیں تھا، مگر بولتا ضرور تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ
آواز اونچی ہو یا آہستہ، اگر سچ ہو تو سنی جاتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموشی ہمیشہ امن نہیں ہوتی
- خود کو مسلسل دبانا نقصان دہ ہو سکتا ہے
- سچ بولنا ہمت مانگتا ہے، مگر طاقت دیتا ہے
- اپنی آواز تلاش کرنا خود کی حفاظت ہے
- جو خود کو سنتا ہے، دنیا بھی اسے سننے لگتی ہے
اگر ہم اپنی بات خود نہ کہیں، تو کوئی اور ہماری جگہ فیصلہ کر لے گا۔
— اختتام —