← تمام اردو کہانیاں

خاموش دروازہ

A lonely old wooden door in a narrow street, soft evening light, emotional mood

شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جس کے آخر میں ایک بوسیدہ مگر مضبوط لکڑی کا دروازہ لگا ہوا تھا۔
وہ دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ نہ اس پر کوئی تختی تھی، نہ کوئی نام، نہ کبھی کسی نے اسے کھلتے دیکھا۔

اسی گلی میں عمران رہتا تھا۔
عمران ایک عام سا نوجوان تھا، مگر اس کے خواب بہت بڑے تھے۔ وہ محنتی تھا، ایماندار تھا، مگر بدقسمتی اس کے دروازے پر روز دستک دیتی تھی۔

نوکری کے لیے جاتا تو کہا جاتا:
“ہم آپ کو اطلاع دیں گے”
اور وہ اطلاع کبھی نہیں آتی۔

کاروبار شروع کرتا تو نقصان ہو جاتا۔
لوگوں پر بھروسہ کرتا تو دھوکہ ملتا۔

اکثر شام کو عمران کام سے لوٹتے ہوئے اس خاموش دروازے کے سامنے رک جاتا۔
وہ دروازہ اسے عجیب سا لگتا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر خاموشی اوڑھے بیٹھا ہو۔

ایک دن عمران نے بوڑھے محلے دار حاجی صاحب سے پوچھ ہی لیا:
“حاجی صاحب، یہ دروازہ کس کا ہے؟”

حاجی صاحب ہلکا سا مسکرائے اور بولے:
“بیٹا، یہ دروازہ بہت پرانا ہے۔ کہتے ہیں جو اس کے پیچھے جانے کی ضد کرتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ سیکھ کر ہی لوٹتا ہے۔”

عمران کے دل میں تجسس پیدا ہو گیا۔

اس رات وہ دیر تک سوچتا رہا۔
زندگی میں سب دروازے بند ہو چکے تھے، تو کیوں نہ ایک اور دروازہ آزمایا جائے؟

اگلے دن اس نے ہمت کی، اور پہلی بار اس دروازے پر دستک دی۔

کوئی جواب نہ آیا۔

اس نے دوبارہ دستک دی۔
خاموشی۔

تیسری بار اس نے دروازے کو دھکا دیا، مگر وہ بند تھا۔

مایوس ہو کر وہ وہیں بیٹھ گیا۔
اچانک اس کی نظر دروازے کے نیچے لکھی ایک مدھم سی تحریر پر پڑی:

“ہر بند دروازہ ناکامی نہیں ہوتا، کچھ دروازے تمہیں رک کر سوچنا سکھاتے ہیں۔”

عمران کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ زندگی میں ہر وقت دروازے کھلوانے کی جلدی میں تھا، مگر خود کو بدلنے کا وقت کبھی نہیں دیا۔

اس دن کے بعد عمران نے شکایت کرنا چھوڑ دی۔
اس نے اپنی صلاحیتیں سیکھنا شروع کیں، نئی مہارتیں حاصل کیں، صبر کو اپنایا۔

مہینے گزر گئے۔

ایک دن اسے ایک ایسی نوکری ملی جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
وہاں نہ سفارش تھی، نہ دھوکہ، صرف قابلیت تھی۔

کامیابی کے بعد ایک شام وہ پھر اس گلی میں آیا۔
خاموش دروازہ اب بھی بند تھا۔

وہ مسکرایا، دروازے کو سلام کیا اور آہستہ سے بولا:
“شکریہ، تم نے بند رہ کر مجھے کھول دیا۔”

اور وہ سکون کے ساتھ واپس لوٹ گیا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

خاموش دروازے کبھی جواب نہیں دیتے، مگر سمجھدار انسان ان کی خاموشی پڑھ لیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →