ٹوٹا ہوا چراغ
گاؤں کے کنارے ایک کچی سی جھونپڑی تھی، جس میں سلیم اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔
جھونپڑی میں واحد قیمتی چیز ایک پرانا سا تیل کا چراغ تھا، جس پر ایک گہری دراڑ تھی۔
سلیم کے باپ کے انتقال کو کئی سال ہو چکے تھے۔
غربت ان کے گھر میں مستقل مہمان بن چکی تھی۔
ماں اکثر کہا کرتی:
“بیٹا، بس یہ چراغ ہے جو رات میں ہمارا ساتھ دیتا ہے۔”
مگر سلیم کو وہ چراغ اچھا نہیں لگتا تھا۔
وہ سوچتا تھا کہ یہ چراغ بھی اس کی زندگی کی طرح ٹوٹا ہوا ہے۔
ایک دن سلیم شہر سے لوٹا تو اس کے ہاتھ میں ایک نیا، چمکتا ہوا لیمپ تھا۔
وہ خوشی سے بولا:
“ماں! اب ہمیں اس ٹوٹے چراغ کی ضرورت نہیں!”
ماں نے خاموشی سے نیا لیمپ رکھا، مگر پرانے چراغ کو پھینکنے نہ دیا۔
اسی رات اچانک تیز آندھی آئی۔
بجلی چلی گئی، اور نیا لیمپ خراب ہو گیا۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
ماں نے آہستہ سے وہی پرانا چراغ جلایا۔
دراڑ کے باوجود اس کی روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔
سلیم خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
ماں بولی:
“بیٹا، جو ٹوٹا ہوا ہوتا ہے نا، وہی دوسروں کے لیے جگہ بناتا ہے۔
دیکھو، اس کی دراڑ سے روشنی زیادہ پھیل رہی ہے۔”
سلیم کی آنکھیں بھر آئیں۔
اگلے دن وہ چراغ اپنے ساتھ لے کر گاؤں کے بچوں کو پڑھانے لگا۔
رات میں اسی چراغ کی روشنی میں بچوں کی آنکھوں میں خواب جگمگانے لگے۔
وقت گزرا۔
سلیم استاد بن گیا۔
اس کی زندگی میں روشنی آ چکی تھی، مگر اس نے چراغ کو کبھی نہیں چھوڑا۔
ایک دن کسی نے اس سے پوچھا:
“اتنا پرانا چراغ کیوں رکھتے ہو؟”
سلیم مسکرایا:
“یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ ٹوٹا ہونا کمزوری نہیں، روشنی بانٹنے کا راستہ ہے۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خامیاں ہمیں ناکارہ نہیں بناتیں
- ٹوٹ پھوٹ کے بعد ہی اصل روشنی جنم لیتی ہے
- جو خود کو کمتر سمجھتا ہے، وہ اپنی طاقت نہیں پہچان پاتا
- انسان اپنی کمیوں کے ساتھ بھی دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے
— اختتام —