← تمام اردو کہانیاں

وقت کی دراڑ

An old broken wall clock with light passing through cracks, surreal and thoughtful mood

شہر کے ایک خاموش کونے میں حارث ایک پرانی گھڑیوں کی دکان چلاتا تھا۔
دکان چھوٹی تھی، مگر گھڑیاں بے شمار تھیں۔
دیواروں پر لگی گھڑیاں مختلف آوازوں میں ٹک ٹک کرتی تھیں، جیسے وقت آپس میں سرگوشیاں کر رہا ہو۔

حارث خود کم گو انسان تھا۔
اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک سوال سا ٹھہرا رہتا۔

وہ اکثر کہتا:
“وقت سب کچھ بدل دیتا ہے… مگر کچھ زخموں کو نہیں۔”

حارث کی زندگی کا سب سے بڑا زخم اس کا ماضی تھا۔
ایک ایسا فیصلہ، جس نے اس کا مستقبل بدل دیا تھا۔

ایک رات دکان بند کرتے ہوئے اس کی نظر ایک پرانی، ٹوٹی ہوئی گھڑی پر پڑی، جو اس نے کبھی نہیں بیچی تھی۔ اس گھڑی کے شیشے میں ایک باریک سی دراڑ تھی۔

اچانک اس نے دیکھا کہ گھڑی کی سوئیاں رک گئی ہیں۔

دکان میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔

جب اس نے گھڑی کو ہاتھ لگایا، تو اس کے کانوں میں ایک بھاری مگر نرم آواز گونجی: “اگر وقت میں ایک لمحہ دیکھنے کا موقع ملے، تو کیا دیکھو گے؟”

حارث گھبرا گیا، مگر آواز پھر آئی:
“صرف دیکھنا… بدلنا نہیں۔”

آنکھ جھپکتے ہی وہ خود کو پندرہ سال پیچھے کھڑا پایا۔

سامنے اس کا نوجوان روپ تھا، جو غصے میں اپنے والد کی بات سننے سے انکار کر رہا تھا۔
وہی دن…
وہی لمحہ…
جس دن وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

حارث کے ہاتھ کانپنے لگے۔

وہ چیخنا چاہتا تھا، مگر آواز نہ نکلی۔
وہ صرف دیکھ سکتا تھا۔

اس نے دیکھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے والد کتنے خاموش ہو گئے۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو نہیں رکے۔
اور وہ گھر، جو کبھی ہنسی سے بھرا تھا، ویران ہو گیا۔

اچانک وہ پھر دکان میں تھا۔
گھڑی کی سوئیاں دوبارہ چل رہی تھیں۔

حارث زمین پر بیٹھ گیا۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

اگلے دن اس نے دکان بند رکھی۔
وہ سیدھا اپنے والد کے گھر گیا۔

دروازہ کھلا…
سامنے بوڑھا، کمزور مگر وہی مانوس چہرہ تھا۔

حارث نے کچھ نہیں کہا۔
بس سر جھکا لیا۔

والد نے آہستہ سے کہا:
“وقت نے دیر کر دی، مگر تم آ گئے… یہی کافی ہے۔”

حارث کو سمجھ آ گیا کہ وقت کی دراڑیں ہمیں بدلنے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے ملتی ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

وقت کی دراڑیں ہمیں ماضی میں نہیں، اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →