← تمام اردو کہانیاں

آخری خط

An old handwritten letter on a wooden table near a window, soft sunlight, emotional and nostalgic mood

پرانے شہر کے ایک خاموش محلے میں زینب اکیلی رہتی تھی۔
اس کا گھر صاف ستھرا تھا، مگر عجیب طرح سے خالی محسوس ہوتا تھا، جیسے دیواریں بھی کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔

ہر جمعرات کو ڈاکیا آتا،
اور زینب ہمیشہ دروازہ کھول کر ایک ہی سوال کرتی:
“میرے نام کوئی خط؟”

جواب اکثر نفی میں ہوتا۔

لوگوں نے خط لکھنا چھوڑ دیا تھا،
مگر زینب نے انتظار کرنا نہیں چھوڑا تھا۔

یہ انتظار عمر کے ایک خط کا تھا۔

عمر اس کا بھائی تھا۔
برسوں پہلے ایک معمولی سی بات پر ناراض ہو کر گھر چھوڑ گیا تھا۔
جاتے وقت بس اتنا کہا تھا:
“اب کبھی واپس نہیں آؤں گا۔”

ماں باپ وقت کے ساتھ رخصت ہو گئے،
گھر میں بس یادیں رہ گئیں،
اور زینب کا انتظار۔

ایک دن پرانے صندوق کی صفائی کرتے ہوئے اسے ایک لفافہ ملا۔
لفافہ پیلا ہو چکا تھا،
اور اس پر اس کا ہی نام لکھا تھا۔

خط کبھی بھیجا نہیں گیا تھا۔

ہاتھ کانپتے ہوئے اس نے خط کھولا۔

لکھا تھا:

“زینب، میں جانتا ہوں میں ضدی ہوں۔
لیکن میں غلط تھا۔
میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اگر کبھی یہ خط تم تک پہنچے،
تو جان لینا، میں نے ہر دن تمہیں یاد کیا۔
میں واپس آنا چاہتا ہوں،
مگر ہمت نہیں ہوتی۔
اگر میں نہ آ سکوں،
تو مجھے معاف کر دینا۔
تمہارا بھائی — عمر”

زینب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ خط ہاتھ میں لے کر دیر تک بیٹھی رہی۔

اگلے ہی دن وہ عمر کو ڈھونڈنے نکل پڑی۔
پتہ بدل چکا تھا،
شہر بدل چکا تھا،
مگر قسمت نے ایک آخری موڑ رکھا تھا۔

اسے پتا چلا کہ عمر چند دن پہلے بیمار ہو کر ایک اسپتال میں داخل ہوا تھا۔

زینب بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی۔

کمرے میں خاموشی تھی۔
عمر بستر پر لیٹا تھا،
آنکھیں بند۔

زینب نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“میں نے خط پڑھ لیا ہے، بھائی۔
اب کوئی ناراضی نہیں۔”

عمر کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا۔

وہ مسکرا دیا…
اور خاموش ہو گیا۔

زینب نے خط اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

یہ آخری خط تھا،
مگر سچ وقت پر پہنچ گیا تھا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کچھ خط پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے ہوتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →