← تمام اردو کہانیاں

ادھورا راستہ

A long empty road fading into fog, soft morning light, sense of uncertainty and hope

سعید کو ہمیشہ سے سفر کا شوق تھا۔ نقشے جمع کرنا، راستوں کے نام یاد رکھنا، اور نئے شہروں کے خواب دیکھنا اس کی عادت تھی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی کسی فیصلے پر دیر تک نہیں ٹھہرا۔

کبھی تعلیم ادھوری چھوڑی، کبھی نوکری بدل لی، کبھی رشتے کو وقت نہ دے سکا۔

ہر بار وہ یہی کہتا: “ابھی وقت ہے، بعد میں مکمل کر لوں گا۔”

ایک دن اسے اپنے پرانے شہر جانا پڑا۔ وہی شہر جہاں اس نے برسوں پہلے اپنا سب سے اہم فیصلہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔

بس سے اترتے ہی اس کی نظر ایک پرانی سڑک پر پڑی۔ یہ وہی راستہ تھا جو شہر سے باہر جاتا تھا، اور جہاں سے وہ ایک دن مڑ گیا تھا۔

سعید کو یاد آیا… وہ دن جب اسے شہر چھوڑنے کا موقع ملا تھا، اور اس نے خوف کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔

وہ راستہ آج بھی ویسا ہی تھا، بس خاموش۔

سعید آہستہ آہستہ اس پر چلنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ دل بھاری ہوتا گیا۔

راستے کے آخر میں ایک چھوٹا سا بورڈ لگا تھا:
“یہاں سے واپسی نہیں”

سعید مسکرایا، اور آہستہ سے بولا: “شاید مکمل ہونا واپسی میں نہیں، آگے بڑھنے میں ہے۔”

اس نے وہیں کھڑے ہو کر ایک نیا فیصلہ کیا۔ اس بار نہ خوف تھا، نہ ٹال مٹول۔

چند مہینوں بعد سعید نے وہی کام شروع کیا جس کا وہ ہمیشہ خواب دیکھتا تھا۔ آسان نہیں تھا، مگر سچا تھا۔

وہ جان گیا تھا کہ ہر ادھورا راستہ غلط نہیں ہوتا، کچھ ہمیں خود تک پہنچانے کے لیے ادھورے رہ جاتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ادھورے راستے ہمیں بھٹکانے نہیں، خود سے ملانے آتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →